چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ علماء کرام کو معاشرے میں اعتدال، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا انحصار قومی یکجہتی، باہمی اتحاد اور امن کے قیام پر ہے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی، مذہبی، سماجی اور لسانی طبقات باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک و ملت کی بہتری کیلئے متحد ہو جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ علماء کرام معاشرے میں اعتدال کو فروغ دیں، ملکی ترقی امن، اتحاد اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے، علماء کرام معاشرے کے فکری رہنما ہیں، نوجوان نسل کو شدت پسندی سے بچائیں، علماء کرام کو معاشرے میں اعتدال، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا انحصار قومی یکجہتی، باہمی اتحاد اور امن کے قیام پر ہے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی، مذہبی، سماجی اور لسانی طبقات باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک و ملت کی بہتری کیلئے متحد ہو جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ نعیمیہ لاہور میں سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کے قیادت میں ملنے آئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں مذہبی رہنماؤں نے ملکی مجموعی سیاسی ومذہبی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مدارس کو درپیش مسائل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
 
ملاقات میں مفتی انتخاب احمد نوری، علامہ محمد ریاض ہزاروی، علامہ محمد رب نواز حقانی، علامہ عثمان نقشبندی و دیگر شریک تھے۔ اس موقع پر سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قاردی نے کہا کہ اسلام ہمیں بھائی چارے، صبر، برداشت اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رویوں میں توازن پیدا کریں، اختلافات کو باہمی مشاورت سے حل کریں اور ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ دینی قیادت کی ذمہ داری صرف وعظ و نصیحت تک محدود نہیں، بلکہ وہ عوام کی فکری تربیت اور اخلاقی رہنمائی میں بھی اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کا احترام اور دلیل کی بنیاد پر بات کرنا ہی اعتدال پسندی کی علامت ہے، اسلام کا پیغام توازن، محبت اور برداشت پر مبنی ہے، اور اسی پیغام کو ہر سطح پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: معاشرے میں اعتدال علماء کرام

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے