مریم نوازکا 65ہزار مساجد کے آئمہ کرام کیلیے مالی وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-08-11
لاہور (نمائندہ جسارت) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پہلی مرتبہ پنجاب کی تقریباً 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لیے مالی وظیفہ مقرر کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے آئمہ کرام کے لئے وظیفے کا اعلان کرتے ہوے کہا کہ امام مسجد معاشرے کے قابل احترام اور معزز فرد ہیں اور محلے میں چندہ اکٹھا کر کے انہیں ادائیگی کرنا غیر مناسب ہے۔ حکومت پنجاب ضروریات کے مطابق آئمہ کرام کو معاشی معاونت فراہم کرے گی تاکہ ان کا معاشرتی وقار اور خدمات کو فروغ ملے۔وزیراعلیٰ نے مساجد کی تعمیر و مرمت کے پراجیکٹس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے اور ان کی جلد تکمیل کے لیے اقدامات کی ہدایت بھی دی۔ رائے ونڈ میں ہونے والے بڑے تبلیغی اجتماع کے سلسلے میں وزیراعلیٰ کی ہدایات پر رابطہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت مکمل کر دی گئی ہے اور گڑھوں کو بھی بھر دیا گیا ہے۔ اجتماع کے لیے خصوصی بسیں چلائی جائیں گی اور سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ آئمہ کرام کے پاس خود جا کر ان کی ضروریات سے آگاہ ہوں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں سائبر کرائم سیل تشکیل دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے اور لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال پر کارروائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔حکومت کے ان اقدامات کو مذہبی حلقوں کی جانب سے بھی سراہا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت امن و امان پر مسلسل پانچواں اجلاس ہوا، جس میں بریفنگ دی گئی کہ پنجاب بھر میں تمام مساجد میں نماز جمعہ اور دیگر نمازیں با جماعت ادا کی جا رہی ہیں۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کے تقدس کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے، اور شرپسندی کے لیے مساجد کے غلط استعمال کی نشاندہی ہر پرامن شہری کا فرض ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔