Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:36:23 GMT

ساتھی اداکار نے ستیش شاہ کی موت کی اصل وجہ بتا دی

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

ساتھی اداکار نے ستیش شاہ کی موت کی اصل وجہ بتا دی

ممبئی: بھارتی اداکار راجیش کمار نے اپنے ساتھی اداکار ستیش شاہ کی موت کی اصل وجہ بتا دی ہے۔
معروف بھارتی اداکار ستیش شاہ 26 اکتوبر کو 74 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، جس پر بھارتی شوبز انڈسٹری اور مداحوں میں گہرے دکھ و غم کا اظہار کیا گیا۔
ابتدائی رپورٹس میں کہا جا رہا تھا کہ ستیش شاہ کا انتقال گردے فیل ہونے کی وجہ سے ہوا، تاہم راجیش کمار نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ موت کی اصل وجہ اچانک دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) تھی۔ راجیش کے مطابق ستیش شاہ اپنے گھر میں دوپہر کے کھانے کے دوران اچانک ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ستیش شاہ کو گردوں کا مسئلہ ضرور تھا، لیکن وہ کنٹرول میں تھا۔
ستیش شاہ نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1970 میں کیا اور متعدد مشہور فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 1983 میں ریلیز ہونے والی فلم ’جانے بھی دو یارو‘ سے انہیں خاص شہرت حاصل ہوئی، اور اس کے بعد انہوں نے کئی نمایاں کردار ادا کیے۔
ستیش شاہ نے بڑے نامور اداکاروں جیسے امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان کے ساتھ بھی کام کیا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے چھوٹی اسکرین پر بھی شاندار کام کیا اور ڈرامہ سیریل ’یہ جو ہے زندگی‘ میں 55 اقساط میں 55 مختلف کردار ادا کیے، جس سے وہ ٹی وی کے مداحوں کے بھی دلوں میں گھر کر گئے۔
ستیش شاہ کی وفات نے بھارتی شوبز انڈسٹری میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے، اور ان کے مداح ان کی یاد میں گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ستیش شاہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا