Express News:
2026-06-02@23:25:05 GMT

ہم ’’اغوا‘‘ ہونے کے لیے تیار ہیں

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

ایک لڑکے اورلڑکی میں محبت ہوگئی ، لڑکی والے کچھ بڑے لوگ تھے، اس لیے رشتے سے انکار کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی بھاگ کر لڑکے کے گھر آگئی ، لڑکی کے خاندان نے اعلان کردیا کہ وہ ’’بدلہ ‘‘ لے کر رہیں گے۔ اس لڑکے کی ایک غیر شادی شدہ بہن تھی۔ بدصورت ہونے کی وجہ سے اس کوکسی نے اسے قبول نہیں کیا تھا، اس نے بدلے کا سنا تو جان بوجھ کر کھلے عام پھرنے لگی، اکثر دشمنوں کے گلی کوچوں میں پھرنے لگی کہ شاید وہ لوگ اپنا بدلہ لینے کے لیے ’’اسے‘‘ اٹھا لیں لیکن بیچاری کی امید پوری نہیں ہوئی۔

ہمارا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ رہا ہے، ہم سنتے تھے کہ اکثر صحافی کسی نہ کسی کے ہاتھوں خودکو فروخت کردیتے ہیں یاکو ئی ان کو اپنے ’’پے رول‘‘ پر رکھ لیتا ہے اور وہ لفافے والے صحافی بن جاتے ہیں،پرمٹ ،پلاٹ یااوربہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں، چنانچہ ہم نے ادھر ادھر پھرنا شروع کردیا، ٹاپ کلاس کے جھوٹ بولے اور لکھے لیکن کسی نے بھی گھاس نہیں ڈالی ۔

لوگ بازار میں آکے بک بھی گئے

میری قیمت لگی کی لگی رہ گئی

 برسراقتدار لوگوں کے سامنے خود کو آگے پیچھے کیا، متوقع اقتدار میں آنے والوں کی مدح خوانی کی جن جن ممالک سے کچھ توقع ’’داد‘‘ پانے کی تھی، ان کے سامنے بھی ادھرادھر ہوئے، جن لوگوں پر شک تھا کہ ’’اہل لفافہ‘‘ ہیں ، ان کے بھی آگے پیچھے ہوئے لیکن کسی نے بھی ہاتھ نہیں بڑھایا ، ایک زمانے میں کچھ ایسا تاثردیا جسے مسلم لیگی حکمران ہمارے فین ہوں لیکن یہ تو قع بھی نقش بر آب ثابت ہوئی ، ہماری طرف سے ’’ہاں‘‘ تھی لیکن اس طرف سے۔

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان

 ’’بھولے‘‘ تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے

اے این پی سے ہمارا تین پشتوں کاتعلق ہے لیکن اس کی تو پالیسی غلط ہے کہ اپنے تو بہرحال اپنے ہیں، پرایوں کو اپنا بناؤ چنانچہ وہ پرایوں کو اپناتے رہے اوراپنوں کو پرایا کرتے رہے، جن میں ہم بھی شامل تھے ،کسی نے بھی نہ پوچھا کہ بھیا کیسی۔

لفاف اورلفافہ تو اپنے نصیبوں میں نہیں تھا ، نہیں پاسکے لیکن اس دوڑ میں ہم خود گم ہوگئے ، نہ تین میں شامل ہوسکے نہ تیرہ میں ، صحافی یہ کہہ کر ہمیں ’’دورپرے‘‘کہتے ہیں کہ ہم تو صحافی نہیں، ادیب ہیں اورادیب ہمیں صحافی کہہ کر دھتکارتے ہیں ، شاعر ہمیں ڈرامہ نگار کہہ کر دھتکارتے ہیں اورتو اور پشتو والے ہمیں اردو کی طرف دھکیلتے ہیں اوراردو والے ہمیں پشتون یعنی پشتو بولنے والا سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ مزاح نگار ہمیں سنجیدہ اورسنجیدہ ہمیں مزاح نگار کہہ کر منہ پھیرتے ہیں اورہم وہ لڑکی بن کر رہ گئے جو اغوا ہونے کی حسرت میں بوڑھی ہوگی تھی۔

ہم تو بالکل مایوس ہوگئے تھے اورصبر شکر کرکے بیٹھ گئے کہ اللہ صابرین وشاکرین کو پسند کرتے ہیں کہ اچانک اس خراب آباد میں ’’بانی‘‘ کی ولادت باسعادت ہوئی ، شاید اس ملک کے بداعمال لوگوں کو سزا دینے کے لیے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ راتوں رات لوگ کوڑے دان سے اٹھ کر محل نشین ہوگئے۔ یہ حالات دیکھے تو ہماری بنجر کھیتی ایک مرتبہ پھر سرسبز ہونے لگی ، سوچا، اگر کسی طرح معاون یا مشیر کارتبہ پکڑمیں آجائے تو شفق ، دھنک، مہتاب ، ہوائیں بجلی تارے قمقمے پھول ، کھل اٹھیں گے۔ لیکن وہ جو کسی نے کہا ہے کہ بدنصیب یہاں بھی بدنصیب اورسات سمندر پاربھی بدنصیب ۔ ساری دنیا پانی پانی ہوجائے بلکہ’’بانی بانی‘‘ ہوجائے جن کی قسمت میں ’’چاٹنا‘‘ لکھا ہوتا ہے، وہ ’’چاٹتے‘‘ رہ جاتے ہیں۔یاجن کے گلے میں سوراخ ہو، اس کانصیبہ صرف بارش کے قطرے ہوا کرتے ہیں۔ہماری تو دعا بھی قبول نہیں ہوتی حالانکہ خیبر پختونخوا میں ’’بانی‘‘ کے طویل دورمیںلوگ کیا سے کیا ہوگئے۔ ہم نے کوشش بہت کی ،ہم سے بھی ماڑے مٹے لوگ نہ جانے کیا کیا بن گئے اور پھر اپنے لیے کیاکیا بناگئے۔

اب یہ جو نئی صوبائی تبدیلی آگئی ہے، ہماری توقع بھی پھر جاگ اٹھی ہے ، سوکھے دھانوں میں پھر پانی پڑ گیا ہے، اس لیے اپنی لیاقت اورقابلیت ایک مرتبہ پھر مشتہرکرتے ہیں ۔اس منصب کے لیے جو خوبی درکارہوتی ہے وہ ہمارے اندر بدرجہ اتم موجود ہے یعنی جھوٹ ہم ایسا بولتے ہیں، ایسا بول سکتے ہیں کہ اورتو اوربولنے کے بعد ہم خود بھی اپنے جھوٹ کو ’’سچ‘‘ سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ ایک وکیل سے اس کے موکل نے بری ہونے کے بعد کہا، وکیل صاحب! آپ نے عدالت میں جو دلائل میرے حق میں دیے، انھیں سن کر خود میں نے بھی محسوس کیا جیسے چوری میں نے نہیں کسی اورنے کی تھی۔ مطلب ہمارے اندرایک مکمل مشیر یامعاون موجود ہے گرقبول افتد رہے عزو مشرف

 مجھ کو معلوم ہے میں جنس گراں ہوں لیکن

 لیکن اب ایسا خریدار کہاں سے لاؤں

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہہ کر نے بھی

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار