13 دسمبر 2024 کو جنوبی افریقہ کے خلاف آخری ٹی20 میچ کھیلنے والے بابر اعظم کی 10 ماہ بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ہی واپسی تقریباً یقینی ہوچکی ہے اور کوچ مائیک ہیسن کے تازہ بیان کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بابر اعظم آج راولپنڈی کے میدان پر ایکشن میں نطر آئیں گے۔

یہ میچ بابر اعظم کے لیے 2 حوالوں سے اہم ہے، ایک تو طویل عرصے بعد مختصر فارمیٹ میں واپسی ہورہی ہے جبکہ دوسری اہم بات یہ کہ وہ آج ٹی20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن سکتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے انہیں صرف 9 رنز درکار ہیں۔ اس فہرست میں ابھی سب سے اوپر بھارت کے روہت شرما ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹی 20 کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز، بابر اعظم نئے ریکارڈ سے کتنے دور؟

10 ماہ بعد بابر اعظم کی واپسی تو ہورہی ہے مگر یہ دیکھنا اور جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ ٹیم سے باہر کیوں ہوئے تھے؟ اگر آخری 5 ٹی20 میچوں پر نظر ڈالیں تو بظاہر ٹیم سے باہر ہونے کی وجہ ان کی فارم لگتی ہے کیونکہ ان 5 ٹی20 میچوں میں بابر اعظم 3 بار ڈبل فگر تک بھی نہیں پہنچ سکے تھے۔ ان پر ایک طویل عرصے سے یہ تنقید ہورہی تھی کہ وہ سلو کھیل رہے ہیں اور شروع کے 6 اوورز میں جس طرح کا فائدہ اٹھانا چاہیے وہ ویسا نہیں کر پارہے ہیں، مگر طویل عرصے تک ان کی شاندار فارم اس طرح کی ہر تنقید کو مٹی تلے دبانے میں کامیاب رہی تھی کیونکہ بابر اعظم سلو تو کھیل رہے تھے مگر رنز تقریباً ہر میچ میں ہی بنا رہے تھے۔

مگر جب ان سے رنز بننا بھی بند ہوگئے تو پھر جو بُرا وقت کافی پہلے آنا تھا وہ بالآخر آگیا۔ یہی کچھ محمد رضوان کے ساتھ بھی ہوا مگر ابھی شاید انہیں مزید انتظار کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں: بابراعظم کی 31ویں سالگرہ، ’ہر دور کا ایک اسٹار ہوتا ہے اور ہمارا اسٹار بابر اعظم ہے‘

اب اسے اچھا کہیں یا بُرا کہ بابر اعظم کے ٹیم سے نکلنے کے بعد جن کھلاڑیوں پر تکیہ کیا گیا وہ بظاہر تو نئے طرز کی کرکٹ کھیلنے کے حامی تھے، کوشش بھی کررہے تھے مگر رنز بنانے میں وہ اب بھی کافی پیچھے تھے اور بار بار مواقع ملنے کے بعد بھی جب وہ ناکام رہے تو ایک بار پھر ٹیم انتظامیہ کی نظریں تجربہ کار بابر اعظم پر گئیں اور یوں ان کی ٹیم میں واپسی کی راہیں کھل گئیں۔

مگر اس بار واپسی میں ایک تبدیلی بھی ہورہی ہے۔ اسے بابر اعظم کا اصرار کہیں یا ضد، مگر وہ ٹی20 کرکٹ میں اوپننگ ہی کرنا چاہتے تھے اور اس سے کم پر بات کرنے کو ہرگز تیار نہیں تھے، لیکن اب کوچ مائیک ہیسن نے 2 دن قبل واضح کردیا ہے کہ بابر اعظم اوپننگ نہیں کریں گے بلکہ وہ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئیں گے۔

مزید پڑھیں: بابر اعظم کی جھلک دیکھنے کے لیے دیوار پھلانگ کر ڈریسنگ روم پہنچنے والا نوجوان گرفتار، مقدمہ درج

لہٰذا سوال اب یہی بنتا ہے کہ واپسی کے بعد ہم بابر اعظم کو کس رول میں دیکھیں گے؟ کیا اب بھی ٹیم انتظامیہ ان سے یہی امید رکھے گی کہ بابر اعظم جدید طرز کی کرکٹ کے فارمولے کو اپناتے ہوئے تیز کرکٹ کھیلیں؟ یا پھر بابر اعظم کو اس لیے ٹیم میں لایا گیا ہے کہ وہ ایک اینڈ سے وکٹ بچاتے ہوئے رنز بناتے رہیں اور نوجوان کھلاڑی تیز رنز کرنے کی کوششیں جاری رکھیں؟

یہ بہت اہم سوال ہے اور اس کا جواب جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز میں مل جائے گا، مگر ایک بات بظاہر یقینی نظر آرہی ہے کہ بابر اعظم مختصر وقت کے لیے ٹیم میں نہیں آئے بلکہ اگلے برس کھیلے جانے والے ٹی20 ورلڈ کپ تک ان کی موجودگی پکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کہ بابر اعظم اعظم کی کے بعد کے لیے

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز