چیٹ جی پی ٹی کے اکسانے پر بیٹے کی ماں کو قتل کرکے خودکشی؛ مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
آرٹیفیشل انٹیلجنس نے جہاں لوگوں کی زندگی میں کئی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں اس کے استعمال سے کئی المناک حادثات نے بھی جنم لیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے جس میں بیٹے نے اپنی ہی ماں کو قتل کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں گزشتہ برس 56 سالہ سفاک بیٹے نے اپنی 83 سالہ والدہ کا گلا گھونٹ کر بیدردی سے قتل کردیا تھا۔
اس کے بعد اسٹین ایرک سولبرگ نے خود کو بھی چاقو مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا تاہم خودکشی بعد از قتل کا معمہ حل نہ ہوسکا تھا۔
مقتولہ خاتون کے بھائی بہنوں نے کیلی فورنیا کی عدالت سے رجوع کیا جس کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا بیٹے کی بگڑتی ذہنی حالت کو چیٹ جی پی ٹی نے اکسایا۔
متاثرہ خاندان کی درخواست پر چیٹ جی پی ٹی پر خودکشی کے الزام میں مقدمہ درج کرکے جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مقدمے کی نوعیت کیا بن سکتی ہے۔
تفتیش میں پتا چلا کہ ماں کو قتل کرنے والا بیٹا ذہنی اذیت میں مبتلا تھا اور ہر وقت چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا کرتا تھا۔
اسٹین ایرک سولبرگ کو وہم ہوگیا تھا کہ اس کی ہر وقت نگرانی کی جارہی ہے اور والدہ کے گھر کی ایک ایک شے اس کی جاسوسی کے لیے رکھی گئی ہے۔
اپنے اس وہم پر اُس نے چیٹ جی پی ٹی سے بات کی اور جواب میں وہم کو کم کرنے بجائے چیٹ جی پی ٹی نے شک و شبہات کو مزید تقویت دی۔
مزید برآں جب ذہنی امراض کے شکار بیٹے نے الزام لگایا کہ میری ماں مجھے زہر دیکر مارنا چاہتی ہے تو چیٹ جی پی ٹی نے تردید کے بجائے تائید کردی۔
اس طرح ایرک سولبرگ کا ذہنی اضطراب، وہم اور شکوک و شبہات بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ اس نے اپنی ماں کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔
یاد رہے کہ امریکا میں چیٹ جی پی ٹی پر دائر یہ پہلا مقدمہ نہیں ہے بلکہ ایسے کئی متعدد کیسز زیر تفتیش ہے جس میں اے آئی نے نوجوانوں کو خودکشی کرنے کے طریقے بھی بتائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔