data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی سوچ اور طرزِ عمل اس قدر بگڑ چکا ہے کہ وہ ’’بانی ایم کیو ایم پارٹ ٹو‘‘ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اڈیالہ کی چاردیواری نے انہیں ’’ذہنی مریض‘‘ بنا دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اپنے دورِ حکومت میں سیاسی مخالفین کو دھمکیاں دیتے رہے اور ملک کو دیوالیہ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے آنے والی ہر مثبت خبر اُن کے لیے ’’فتنہ اور انتشار‘‘ کا باعث بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں موجود شخص مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ وہ بالکل صحت مند ہے اور باہر سے منگوائے گئے کھانوں تک سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی بیماری سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں سراسر غلط ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ذہنی کیفیت کا باقاعدہ معائنہ ہونا چاہیے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا  کہ  ’’فتنہ خان‘‘ کی سیاست اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ عمران خان پہلے بھی ملک کے لیے خطرہ تھے اور آج بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی شخص مظلومیت کا ڈرامہ کر رہا ہے جو دوسروں کے اے سی تک بند کروا دیتا تھا۔

عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے بانی پی ٹی آئی کے ’’گندے کردار پر سخت چوٹ‘‘ کی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر بھی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بانی پی ٹی آئی کے طرزِ سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا