اڈیالہ کا قیدی بانی متحدہ پارٹ ٹو بن چکا، ذہنی کیفیت کا معائنہ کیا جائے،عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی سوچ اور طرزِ عمل اس قدر بگڑ چکا ہے کہ وہ ’’بانی ایم کیو ایم پارٹ ٹو‘‘ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اڈیالہ کی چاردیواری نے انہیں ’’ذہنی مریض‘‘ بنا دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اپنے دورِ حکومت میں سیاسی مخالفین کو دھمکیاں دیتے رہے اور ملک کو دیوالیہ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے آنے والی ہر مثبت خبر اُن کے لیے ’’فتنہ اور انتشار‘‘ کا باعث بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں موجود شخص مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ وہ بالکل صحت مند ہے اور باہر سے منگوائے گئے کھانوں تک سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی بیماری سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں سراسر غلط ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ذہنی کیفیت کا باقاعدہ معائنہ ہونا چاہیے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’’فتنہ خان‘‘ کی سیاست اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ عمران خان پہلے بھی ملک کے لیے خطرہ تھے اور آج بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی شخص مظلومیت کا ڈرامہ کر رہا ہے جو دوسروں کے اے سی تک بند کروا دیتا تھا۔
عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے بانی پی ٹی آئی کے ’’گندے کردار پر سخت چوٹ‘‘ کی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر بھی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بانی پی ٹی آئی کے طرزِ سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔