لاہور میں ’غذائی دہشتگردوں‘ کے خلاف آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
لاہور میں جعلی دودھ بنانے والوں کے خلاف بڑا آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں گدھے اور کتے کے گوشت، جعلی دودھ اور پلاسٹک کے چاول فروخت، حقیقت کیا ہے؟
ڈی جی فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید کے مطابق غذائی دہشتگردوں کے خلاف اب تک لاہور میں 607 مقدمات درج کروائے جا چکے ہیں۔
نقلی دودھ بیچنے والوں کے خلاف مذکورہ آپریشن ڈھائی ماہ قبل شروع کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں دودھ کی پیداوار کتنی، پروڈکشن کے لحاظ سے دنیا میں نمبر کونسا؟
فوڈ اتھارٹی نے 15 لاکھ لیٹر جعلی دودھ تلف کیا، 400 کے قریب جعلی دودھ بنانی والی فیکٹریوں کو سیل کیا اور 150 کے قریب ان گاڑیوں کو ضبط کیا جو غیرمعیاری دودھ مارکیٹ میں لا رہی تھیں۔
اس آپریشن سے پہلے لاہور میں 20 سے 25 فیصد کیمیکل والا دودھ فروخت ہورہا تھا لیکن اب اس میں کمی آچکی ہے۔
مزید پڑھیں: مونس الٰہی کی دودھ فیکٹری پر ایف بی آر کا چھاپہ
عدالتوں سے جعلی دودھ بنانے والے عناصر کو سخت سزاؤں کی صورت میں توقع ہے کہ لاہور میں یہ گھناؤنا کاروبار بند ہوجائے گا۔ تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جعلی دودھ دودھ والوں کے خلاف آپریشن غذائی دہشتگرد لاہور ملاوٹی دودھ نقلی دودھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جعلی دودھ دودھ والوں کے خلاف ا پریشن غذائی دہشتگرد لاہور ملاوٹی دودھ نقلی دودھ لاہور میں جعلی دودھ کے خلاف
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔