پاکستان میں امریکی خام تیل کی پہلی تاریخی درآمد، توانائی کے شعبے میں نیا دور شروع
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے توانائی کے شعبے میں آج ایک تاریخی باب رقم ہو گیا۔ امریکی خام تیل سے لدا پہلا بحری جہاز ایم ٹی پیگاسس بلوچستان کے ساحل پر آج پہنچ رہا ہے۔
یہ پاکستان کی بندرگاہوں پر آنے والا سب سے بڑا امریکی تیل بردار جہاز ہے جو سنرجیکو کے آف شور آئل ٹرمینل پر برتھ کرے گا۔ اس جہاز کے ذریعے امریکا کی ریاست ہیوسٹن سے 10 لاکھ بیرل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ آئل پاکستان لایا گیا ہے۔
سنرجیکو نے یہ درآمد پاکستان اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ بڑے تجارتی معاہدے کے تحت کی ہے۔ اس تاریخی پیش رفت کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان خام تیل کی دوطرفہ تجارت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ امریکی تیل براہِ راست ملک میں درآمد کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی بلکہ تجارتی تعلقات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
ایم ٹی پیگاسس نے 14 ستمبر کو ہیوسٹن کی بندرگاہ سے سفر شروع کیا اور آج بلوچستان میں واقع سنرجیکو کے ایس پی ایم ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گا۔ کمپنی نے 2017 میں بھی پاکستان میں سب سے بڑے خام تیل کے جہاز کو اپنے ٹرمینل پر لانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
سنرجیکو حکام کے مطابق یہ صرف شروعات ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ دوسرا آئل کارگو نومبر کے وسط میں لایا جائے گا، جبکہ تیسرا آئل کارگو 2026 میں متوقع ہے۔ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے توانائی کے ذخائر میں استحکام آنے اور درآمدی تنوع بڑھنے کی امید ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی تیل کی یہ پہلی درآمد پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہم سنگِ میل ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد کی نئی فضا قائم کرے گی۔ سنرجیکو کے اس اقدام نے پاکستان کو بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں ایک فعال شراکت دار کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: توانائی کے خام تیل
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔