سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی خریداری کی موجودہ قیمت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد: ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی خریداری کی موجودہ قیمت 22 روپے فی یونٹ برقرار ہے، جب کہ حکومت نے اس نرخ میں ممکنہ کمی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی کی قیمتوں میں کمی پر غور تو کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے پالیسی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس وقت گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر نیٹ میٹرنگ کے صارفین سے 22 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ نرخوں کے تعین سے متعلق حالیہ اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، مگر کوئی حتمی اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔ اجلاس میں وزارتِ توانائی، نیپرا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے شریک تھے۔
یاد رہے کہ جون 2025 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شدید تحفظات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
پاور ڈویژن کے مطابق حکومت فی الوقت ایسی پالیسی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے جو ایک جانب قومی گرڈ کے مالی بوجھ کو کم کرے اور دوسری جانب شمسی توانائی کے فروغ کے عمل کو متاثر نہ ہونے دے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے حتمی اعلان سے قبل تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ گھریلو صارفین اور توانائی کے شعبے دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سولر نیٹ میٹرنگ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔