اسلام آباد: ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی خریداری کی موجودہ قیمت 22 روپے فی یونٹ برقرار ہے، جب کہ حکومت نے اس نرخ میں ممکنہ کمی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی کی قیمتوں میں کمی پر غور تو کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے پالیسی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس وقت گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر نیٹ میٹرنگ کے صارفین سے 22 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ نرخوں کے تعین سے متعلق حالیہ اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، مگر کوئی حتمی اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔ اجلاس میں وزارتِ توانائی، نیپرا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے شریک تھے۔

یاد رہے کہ جون 2025 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شدید تحفظات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

پاور ڈویژن کے مطابق حکومت فی الوقت ایسی پالیسی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے جو ایک جانب قومی گرڈ کے مالی بوجھ کو کم کرے اور دوسری جانب شمسی توانائی کے فروغ کے عمل کو متاثر نہ ہونے دے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے حتمی اعلان سے قبل تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ گھریلو صارفین اور توانائی کے شعبے دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سولر نیٹ میٹرنگ

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں