کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں میونسپل ٹیکس کی وصولی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار نے انکشاف کیا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) شہریوں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے ٹیکس کی مد میں اب تک 2 ارب 64 کروڑ روپے وصول کر چکی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت ٹیکس کی وصولی صرف سرکاری ادارے کر سکتے ہیں، جبکہ کسی تیسرے فریق کو ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق کے ایم سی کی جانب سے بجلی کے بلوں میں میونسپل یوٹیلیٹی چارجز (MUCT) کا نفاذ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کی واضح خلاف ورزی ہے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ نیپرا بھی پہلے ہی کے الیکٹرک کے ذریعے کے ایم سی ٹیکس کی وصولی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے، جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عدالت کے 29 مئی 2024 کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔ سماعت کے دوران کے ایم سی کے وکیل کے معاون نے بتایا کہ ان کے سینئر وکیل موجود نہیں، جس پر عدالت نے مزید کارروائی 4 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے ایم سی ٹیکس کی

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی

نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت  مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔

ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور