data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: شہر میں کیمیکل ملے دودھ کی فروخت کے خلاف مہم کے دوران مزید 7 دودھ کی دکانیں سیل کر دی گئیں، جس کے بعد دو روز میں سیل کی جانے والی دکانوں کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی ہے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاوٹ شدہ اور مضرِ صحت دودھ کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔

اعلامیے کے مطابق منگل کے روز مزید 7 دکانوں کو سیل کیا گیا جن میں 3 دکانیں ضلع جنوبی، 3 ضلع شرقی اور ایک ملیر میں واقع ہیں۔ کمشنر آفس کے ترجمان کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران 27 دکانوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جن پر ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے کا الزام تھا۔

کمشنر کراچی حسن نقوی کی زیرِ صدارت اجلاس میں ڈی جی فوڈ اتھارٹی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دودھ کے معیار کی چیکنگ کا عمل سخت کیا جائے گا اور ملاوٹ کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا تاکہ عوام کو خالص دودھ فراہم کیا جا سکے۔

کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ جو دکانیں سیل کی گئی ہیں، انہیں بھاری جرمانے کے بغیر ہرگز ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دکانداروں کو تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ آئندہ صرف ملاوٹ سے پاک دودھ ہی فروخت کریں گے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں دودھ کے نمونوں کی جانچ کا عمل جاری ہے، اور جہاں کہیں بھی مضر صحت یا کیمیکل ملا دودھ پایا گیا، وہاں سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ