Express News:
2026-07-24@03:02:58 GMT

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

شہرکی سڑکوں پر شام اترتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ روشنی نہیں ایک بے نام سی اداسی پورے آسمان پر پھیل گئی ہے۔ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے گاڑیوں کے شور میں ایک ہی سوال دل کو چیرتا رہتا ہے، میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟ یہ لہو صرف ایک گھرانے، ایک خاندان یا ایک دل شکستہ ماں کا نہیں، یہ اس پورے سماج کا ہے جس نے طاقت، دولت اور بے حسی کو اپنا خدا بنا کر انسانیت کو بھول جانے کی قسم کھا لی ہے۔

چند دن پہلے پھر وہی منظر تھا کہ ایک نوجوان جس کی رفتار اس قدر تیز تھی اور وہ اندھا دھند ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اسٹیرنگ ویل اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ غرورکی گرفت میں تھا۔ سڑک جو سب کے لیے برابر ہوتی ہے، اس لمحے اُس کے لیے تخت تھی۔ ایک تیز رفتارگاڑی ایک لمحے کی بے احتیاطی اور ایک گھرکا چراغ بجھ گیا۔

بچوں کا باپ، والدین کا سہارا بیوی کا ساتھی ایک جھٹکے میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ گھر میں چولہا نہیں جلے گا، بچوں کی فیس نہیں بھری جائے گی، ماں دھاڑیں مار کر روئے گی مگر جس ہاتھ نے یہ خون بہایا وہ ہاتھ چند گھنٹوں بعد صاف دکھائی دیے گا۔ سفارش فون کال اثر و رسوخ اور قاتل آزاد مسکراتا ہوا دنیا کے کسی اور شہر میں نئی زندگی کی تلاش میں نکل جائے گا۔

ہمارے ملک میں سزا مجرم کو نہیں، غریب کی قسمت میں ہوتی ہے، یہاں حادثے نہیں ہوتے بلکہ معصوم لوگوں کا قتل معمول بن جاتا ہے، وہ عدالتیں جو کمزور کو نصیحتیں دیتی ہیں طاقتور کے آگے سر جھکا دیتی ہیں۔ وہ پولیس جو غریب کے گھر کی دہلیز بے دھڑک پار کر لیتی ہے، امیر کے بڑے بڑے دروازوں کے سامنے خاموش کھڑی رہتی ہے اور وہ سماج جو ایک دن احتجاج کرتا ہے دوسرے دن تصویریں بانٹتا ہے اور تیسرے دن سب بھول جاتا ہے۔

اُسی شہر میں ایک اور المیہ ایک چھوٹا بچہ اپنی دنیا میں مگن اپنے ہی قدموں پہ بھاگتے ہوئے ایک ایسے گڑھے میں اُترگیا، جو ہفتوں سے کھلا تھا۔ لوگ دیکھتے رہے، گزرتے رہے، ہمدردانہ نظروں سے اس کے کنارے اینٹیں رکھتے رہے مگر کسی ادارے نے اسے ڈھکن دینے کی زحمت نہ کی۔ وہ گڑھا اُس بچے کے لیے قبر بن گیا اور گھر والوں کے لیے زندگی بھرکا داغ۔

 بچے کی لاش نکالی گئی تو شہر پر جیسے سناٹا چھا گیا۔ اس کی ماں کے ہاتھ خالی ہوگئے، وہ ہاتھ جن پرکبھی وہ بچہ سویا کرتا تھا۔ اُس کے باپ کی آنکھیں ساکت ہوگئیں مگر ادارے؟ افسران وہی پرانی پریس ریلیز، وہی معمول کے بیانات، وہی تحقیقات کے وعدے اور پھر ہمیشہ کی طرح خاموشی۔سوال وہی رہے گا کون ذمے دار ہے؟ کس کی بے حسی نے اس بچے کو نگل لیا؟ اور سب سے بڑھ کر کس کے ہاتھ پر میں اپنا لہو تلاش کروں؟

ملک کے ہر کونے میں یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ کہیں سڑکیں قاتل بن جاتی ہیں، کہیں کھلے مین ہول زندگیاں کھا جاتے ہیں، کہیں طاقت کے نشے میں چور خاندان قانون کو کھیل سمجھ لیتے ہیں۔ ہم ایک ایسے سماج میں زندہ ہیں جس نے انسانیت کو سرکاری فائلوں میں گم ہونے دیا، جہاں ترقی کے نام پر بجٹ تو بنتے ہیں مگرگلی کے ڈھکن نہیں لگتے۔ جس ملک میں ایک بچے کی زندگی کا مول ایک کاغذی معافی ہو، وہاں زخم برسوں تک نہیں بھرتے۔ یہ سب حادثات نہیں، یہ اس نظام کا جرم ہے جو امیروں کے قدم چومتا ہے اور غریب کے بچوں کو لاوارث چھوڑ دیتا ہے۔

یہ وہ ظلم ہے جو اب عادت بن چکا ہے، اور ہم جو اس ظلم کے گواہ بھی ہیں اور اس کے شکار بھی شاید اس قدر تھک چکے ہیں کہ چیخوں کو بھی خاموشی کی چادر اوڑھا دیتے ہیں۔مگر ان ماؤں کی سسکیاں، ان بچوں کی چیخیں، ان باپوں کی خالی نظریں یہ سب گواہی ہیں کہ ہم اب مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہر بچہ جو کھلے مین ہول میں گرتا ہے، ہر شہری جو کسی طاقتورکی گاڑی تلے کچلا جاتا ہے، وہ ہماری اجتماعی غفلت پر نوحہ ہے۔ جس ملک میں سڑکیں غریبوں کی قبریں بنیں، وہاں کوئی سماج زندہ نہیں رہتا، صرف آبادی رہ جاتی ہے، بے حس، بوجھل اور بکھری ہوئی۔

آج اگر ہم نے اس خون کا حساب نہ لیا تو آنے والے کل میں یہ خون ہمارے اپنے قدموں کو پکڑ لے گا۔ ہمیں ان بچوں کی آنکھوں میں جھانکنا ہوگا جو جاتے جاتے ہم سے سوال کر گئے۔ ہمیں ان سڑکوں سے پوچھنا ہوگا جو بار بار قربانیاں مانگتی ہیں۔ ہمیں ان اداروں کو آئینہ دکھانا ہوگا جو عوام کی حفاظت کے لیے بنے تھے مگر عوام کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

آخر میں دل ایک بار پھر وہی سوال دہراتا ہے، میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟ اس سوال کا جواب شاید ایک چہرہ نہیں، ایک نظام ہے۔ ایک پورا ڈھانچہ ہے جو کمزورکوکچلنے کے لیے تیار رہتا ہے اور طاقتور کے قدموں میں فرش بن جاتا ہے۔ جب تک ہم اس نظام کے سامنے کھڑے نہیں ہوں گے جب تک ہم اپنی آواز کو اجتماعی طاقت نہیں بنائیں گے، تب تک یہ سوال ہمارے دلوں میں جلتا رہے گا۔ مگر امید یہی ہے کہ ایک دن ایک وقت ایک لمحہ ایسا آئے گا، جب ظلم کی زنجیریں ٹوٹیں گی جب بے حسی کی چادر اتر جائے گی، جب جرم اور طاقت کے درمیان دیوار گر جائے گی اور شاید تب ہم اس لہو کا سراغ پا سکیں گے جو ہر روز ہماری سڑکوں پر بہہ جاتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ جو ظلم ہمارے اردگرد ہو رہا ہے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے اور ہمارے سیاست دان اور حکومتی اداروں سے جواب مانگا جائے ان کو احساس دلایا جائے کہ یہ ان کی ذمے داری ہے جو ان کو پوری کرنی ہوگی۔ وہ ہمارے نمایندے ہیں اور ان کا انتخاب اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہیں اور عوام صبح شام اپنے نصیبوں کو روتے رہیں۔

عوام کو انصاف چاہیے پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔ اس سے زیادہ مہلت اب نہیں دی جاسکتی۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ دوبارہ کسی کے ساتھ ایسا حادثہ پیش نہ آئے اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ ہر شہری کی جان و مال محفوظ رہے۔ ہم امید تو کر ہی سکتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں گے اور مظلوم کو انصاف ملے گا، یہ کوئی ایسی خواہش تو نہیں کہ جو پوری نہ ہوسکے۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں کس کے ہاتھ جاتا ہے ہیں کہ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف