کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری جعلی قرار دیدی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری جعلی قرار دیدی۔ انتظامیہ کراچی یونیورسٹی کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انرولمنٹ نمبر 5968/87 دراصل امتیاز احمد نامی طالب علم کو الاٹ ہوا تھا، طارق محمود نے ایل ایل بی پارٹ ٹو کے نمبر 7124/87 کو جعل سازی سے استعمال کیا، نام اور انرولمنٹ نمبر بار بار تبدیل کیے گئے تاکہ مارک شیٹس اور ڈگری حاصل کی جا سکیں۔
رپورٹ میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہری عرفان مظہر کی درخواست پر یونیورسٹی نے دوبارہ تحقیقاتی عمل شروع کیا اور کنٹرولر امتحانات نے دوہرے انرولمنٹ نمبرز کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ڈگری اور مارک شیٹس کو غلط قرار دیا، اسلامیہ کالج کے پرنسپل نے بھی تصدیق کی کہ طارق محمود 1984ء سے 1991ء تک کالج کے طالب علم نہیں رہے جب کہ ایچ ای سی نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں مؤقف اپنایا کہ ڈگری جاری کرنا یونیورسٹی کا اختیار ہے اور ایچ ای سی کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں چوں کہ کراچی یونیورسٹی اس ڈگری کو تسلیم نہیں کرتی لہٰذا ایچ ای سی بھی اس ڈگری کو تسلیم نہیں کرسکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کراچی یونیورسٹی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :