سولر صارفین کے لیے اہم خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: سولر صارفین پر لوڈ یا فراہم کردہ یونٹس کے تناسب سے چارجز عائد کرنے کی تجویز سامنے آگئی ، نیٹ میٹرنگ صارفین بیک اپ یا سولر جنریشن کم ہونے پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے نیٹ میٹرنگ سے استفادہ کرنے والے صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔
پیسکو کی دستاویز میں کہا گیا کہ سولر صارفین پر لوڈ یا فراہم کردہ یونٹس کے تناسب سے چارجز عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پاکستان سپورٹس بورڈ نے ویٹ لفٹنگ کے کھلاڑیوں و عہدیداروں پر پابندیاں لگادیں
کمپنی کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ صارفین بیک اپ یا سولر جنریشن کم ہونے پر گرڈ سے بجلی حاصل کرتے ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سولر یونٹس ایکسپورٹ کرنے والے صارفین گرڈ مینٹیننس کاسٹ ادا نہیں کرتے، جس کی وجہ سے نان سولر صارفین پر مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
پیسکو نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ کے پھیلاؤ سے تقسیم کار کمپنیوں کا ریونیو کم ہونے کے باعث عدم مساوات پیدا ہورہی ہے، جبکہ وولٹیج میں اتار چڑھاؤ اور دیگر تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
لاہور: سیف سٹی اتھارٹی کا پولیس ڈرونز پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز
دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ سولر صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے سے نظام میں مالی توازن اور مساوی ریکوری کو یقینی بنایا جاسکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چارجز عائد کرنے سولر صارفین پر نیٹ میٹرنگ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔