شاعر مشرق کے یوم پیدائش پر ڈھاکا میں عالمی کانفرنس کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ڈھاکا: شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر ڈھاکا میں عالمی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام اور 10نومبر کوبین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے متعدد نامور اسکالرز شرکت کریں گے، قومی بیداری میں علامہ اقبال اور قاضی نذر الاسلام کے کردار پر دنیا بھر سے نامور اسکالرز خطاب کریں گے۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام یہ چوتھی بین الاقوامی کانفرنس ہے جس کا عنوان “قومی بیداری میں اقبال اور نذر الاسلام کا کردار” ہے۔دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ۹ اور ۱۰ نومبر ۲۰۲۵ (بروز اتوار اور پیر) کو ڈھاکہ یونیورسٹی، بنگلہ دیش کے سینیٹ بھون میں منعقد ہو گی۔پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، شعبہ اردو، ڈھاکہ یونیورسٹی کانفرنس کے کنوینر ہوں گے،
کانفرنس میں اردو، بنگلہ، انگریزی، فارسی اور عربی میں مقالات پیش کیے جائیں گے۔ 9 نومبر شام4بجے عالمی مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
تاریخی کانفرنس میں شرکت کرنے والے متعدد اسکالرز کا تعلق پاکستان سے ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور فکری روابط کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہیں ڈھاکہ یونیورسٹی کی جانب سے باقاعدہ دعوت نامہ جاری کیا گیا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔