Islam Times:
2026-07-24@01:43:09 GMT

کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے دفتر میں تقریب

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے دفتر میں تقریب

محمد فاروق رحمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن محض تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ دن دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب کشمیری عوام سات دہائیوں سے ظلم، جبر اور غلامی کا شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے دفتر میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی نے کی۔ ذرائع کے مطابق تقریب میں حریت قیادت، سیاسی و سماجی رہنمائوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے گزشتہ سات دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی بدترین اور منظم پامالیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو قتل و غارت، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، کالے قوانین، غیر قانونی گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور معاشی و سماجی استحصال جیسے سنگین مظالم کا سامنا ہے۔ مقررین نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وہاں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے، کشمیریوں کو ان کی زمینوں، وسائل اور شناخت سے محروم کرنے اور ریاستی جبر کو تیز کرنے کی خطرناک پالیسی اختیار کی ہے جو بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور، جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے تمام عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تقریب میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بھارت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ جموں و کشمیر تک رسائی سے مسلسل روک رہا ہے تاکہ وہاں ہونے والے مظالم کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جا سکے۔ محمد فاروق رحمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن محض تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ دن دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب کشمیری عوام سات دہائیوں سے ظلم، جبر اور غلامی کا شکار ہیں تو عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کی خاموشی کا جواز کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک سیاسی تنازعہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق، حقِ خودارادیت اور عالمی انصاف کا مسئلہ ہے جس کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔

تقریب میں عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تمام بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کا فوری نوٹس لیں، کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دلوانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر بھارت کو بین الاقوامی سطح پر جواب دہ بنائیں۔ شرکاء نے جدوجہد آزادی کو ہر قیمت پر جاری رکھنے اور دنیا کے سامنے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تقریب میں سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم، میر طاہر مسعود، سید فیض نقشبندی، مشتاق احمد بٹ، محمد رفیق ڈار، شیخ محمد یعقوب، شیخ عبد المتین، حسن البناء، مرزا مشتاق محمود، امتیاز وانی، عبدالمجید لون، میاں مظفر، محمد شفیع ڈار، کفایت رضوی، منظور احمد ڈار، نذیر کرنائی، سید گلشن، عبدالمجید میر، خورشید میر، میڈم بینظیر، ثناء اللہ ڈار، رئیس میر، قاضی عمران، امتیاز بٹ، عبدالرشید بٹ، غلام نبی بٹ، راجہ پرویز اشرف، راجہ زرین، لال حسین، شوکت ابوزر اور کئی صحافیوں نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور انسانی حقوق انسانی حقوق کے انسانی حقوق کی بین الاقوامی کشمیری عوام کہا کہ

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ