پنجاب اسمبلی: وزراء کی عدم موجودگی پر احتجاج، سی سی ڈی کو کچے میں بھیجیں: پیپلز پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2گھنٹے 20منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں مسلم لیگ ن کے چیف وہپ رانا محمد ارشد نے اپوزیشن پر تنقید کی کہ وہ پری بجٹ بحث پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، پری بجٹ بحث میں محکموں نے دیکھنا تھا کہ کتنے محکموں میں کتنا پیسہ لگا، اتنی غیر سنجیدہ اپوزیشن کبھی اسمبلی کی تاریخ میں نہیں دیکھی، گندم کا ریٹ 35سو روپے مقرر کیا جس پر حکومت کا شکر گزار ہوں، شرانگیزی و فتنہ پھیلانا اپوزیشن کا کام رہ گیا ہے۔ جواب میں سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ حکومتی بینچوں کو دیکھیں کوئی ایک وزیر بھی نظر آرہا ہے، جب کورم کی نشاندہی ہوتی ہے تو آپ کے ممبر کہاں ہوتے ہیں، وزراء ممبران کا سامنا کرنے کیلیے تیار نہیں، جب امجد علی جاوید کسی مسئلہ کی نشاندہی کرتا ہے تو ان کا گھیرا تنگ کردیتے ہیں۔ حکومتی رکن احسن رضا خان نے کہا کہ اس بار جو سیلاب آیا وہ تاریخی سیلاب تھا، ہم نے سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کرنی ہے۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سیلاب پر ڈاکومنٹ رپورٹ آنے دیں، حکومتی رکن سعید اکبر نوانی نے کہا کہ پہلی بار دیکھا ہے وزراء اس ہاؤ س کو اہمیت نہیں دیتے جو کبھی ایسا نہیں ہوا، جتنی حکومت و وزیر اعلیٰ نے اس سیلاب میں کوشش کی وہ قابل تعریف ہے، یہ کام میرا اور آپ کا نہیں ہے نیلی گاڑیاں اور مراعات لینے والے بتائیں حکومت کیا کر رہی ہے، اس سے عوام پر زیادہ اثر ہوگا۔ صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب تاریخ کا بدترین سیلاب ہے، اے سی ڈی سیز سروے کررہے ہیں، سروے مکمل ہونے کے بعد سیلاب میں ایک کمرہ گرنے والے متاثر کو پانچ لاکھ اور دو کمرے گرنے والے مالکان کو دس لاکھ روپے ملے گا۔ پیپلز پارٹی کے رکن ممتاز علی چانگ کا کہنا تھا کہ ہمارے حلقہ میں روڈ ٹوٹے ہوئے ہیں ہم پنجاب کیلئے دعا گو ہیں، جنوبی پنجاب کس مصیبت میں پڑے ہوئے ہیں، رحیم یار خان میں سیلاب سے کوئی سروے نہیں ہو رہا۔ حکومتی رکن احسن رضا نے صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو صہیب بھرت کے جواب پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی اینڈ ڈبلیو محکمہ کی ووٹنگ کروا لیں ہمارے محکمہ میں آئیں کوئی سوال جواب ہو تو جواب بہتر دینے کی کوشش کرتے ہیں، حکومتی رکن احسن رضا کا کہنا تھا کہ سڑک نہیں بنائی گئی ہمیں بے وقوف بنایا جا رہا ہے، وزیر وزیراعلی سے اتنی محبت نہ جتائیں۔ حکومتی رکن سعید اکبر نوانی نے محکمہ مواصلات کی کارکردگی پر اعتراضات اٹھا دئیے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے مصطفے آباد سے قصور تک روڈ کو مسکین و یتیم سڑک قرار دیدیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قصور روڈ پر بڑی عوامی تکلیف ہے اس سڑک پر توجہ دیں۔ صوبائی وزیر نے سڑک بنانے کی یقین کروا دی۔ وزیر پارلیمانی امور میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کی عدم موجودگی پر سپیکر نے وزیر قانون رانا محمد اقبال کو تحریک التوائے کار کے جوابات ایک ہفتہ میں نمٹانے کی ہدایت کردی ،پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ’’دی اورئین انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025ء ایوان میں پیش۔ بل حکومتی رکن رانا محمد ارشد نے اسمبلی میں پیش کیا، دی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ترمیمی بل 2025ء ایوان میں پیش، بل حکومتی رکن سید علی حیدر گیلانی نے اسمبلی میں پیش کیا، دی یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ ایمرجنگ سائنسز بل 2025ء ایوان میں پیش، رکن اسمبلی طارق سبحانی نے بل اسمبلی میں پیش کیا،دی مکبر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی گجرات ترمیمی بل 2025ء ایوان میں پیش،بل حکومتی رکن رانا محمد ارشد نے اسمبلی میں پیش کیا، پینل آف چئیرپرسن سمیع اللہ خان نے تمام بلوں کو دو ماہ کیلیے متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا، پنجاب اسمبلی میں پنجاب اسمبلی نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹوبہ ٹیک سنگھ بل 2025ء کثرت رائے سے منظور کر لیا، پنجاب ڈسٹیٹیوٹیو اینڈ نیگلیکٹیو چلڈرن ترمیمی بل 2025ء حکومت نے کثرت رائے سے منظور کر لیا، بل حکومتی رکن رانا محمد ارشد نے ایوان میں پیش کیا، حکومت نے دی گرینڈ ایشین یونیورسٹی سیالکوٹ ترمیمی بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے منظور کروا لیا، بل حکومتی رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں پیش کیا،دی رائل یونیورسٹی آف مینجمنٹ انفارمیشن اینڈ سائنسز بل 2025ء بھی پنجاب اسمبلی سے منظور،بل حکومتی رکن سومیہ عطاء نے ایوان میں پیش کیا،پنجاب اسمبلی میں حکومت نے دی گنج شکر یونیورسٹی بل 2025ء کثرت رائے سے منظور کر لیا، بل حکومتی رکن رانا محمد ارشد نے ایوان میں پیش کیا، امپیریئل ٹیوٹرل کالج یونیورسٹی ترمیمی بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے منظور بل حکومتی رکن سارہ احمد نے ایوان میں پیش کیا،دی گلوبل یونیورسٹی کمالیہ بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے منظور،بل حکومتی رکن شوکت راجہ نے ایوان میں پیش کیا، دی پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجو کیشن ترمیمی آرڈیننس 2025ء پیش، بل وزیر قانون پنجاب رانا محمد اقبال نے پیش کیا، جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ دی پنجاب ٹورازم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی بل 2025ء ، دی پنجاب مائنز اینڈ منرلز بل 2025 اور دی شوگرکین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ بل 2025ء بھی ایوان میں پیش کردیاگیا۔پیپلز پارٹی کے رکن ممتاز علی چانگ کا کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب جنوبی پنجاب میں ہونا چاہیئے تاکہ جنوبی پنجاب کے دلوں میں نفرت پیدا نہ ہو، حکومتی رکن قدسیہ بتول کی تحصیل تاندلیانوالہ میں فٹ بال اسٹیڈیم تعمیر کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی، سارا احمد کی سپیکر پنجاب اسمبلی کو کامن ویلتھ پارلیمنٹرین آف دی ائیر مبارکباد کی قرارداد منظور،احمد اقبال چوہدری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 140 اے کو مضبوط بنانے کیلئے قرار داد ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نئی یونیورسٹی کے متعلق قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور، شازیہ عابد سی سی ڈی کی کارروائیوں پر بھڑک اٹھیں، آئین کے تحت لوگوں کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ادھر کچھ اداروں کو بے بس کردیا ہے کبھی لوگوں کو اٹھاکر رحیم یار خان یا صادق آباد میں قتل کردیا جاتا ہے جس پر تعریفیں افسوسناک ہے، سی سی ڈی نے مجرم و ملزم کا فرق مٹا دیا ہے، آپ پولیس کا نظام بہتر کریں عدالتوں کا نظام بہتر کریں، راجہ شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو اغواء ڈکیتیوں منشیات فروشوں میں متعدد مقدمات میں اشتہاری تھے ڈر سے کوئی ادارہ کام نہیں کرتا اسے سی سی ڈی کو بھجوایا جاتا ہے، پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی ممتاز علی چانگ نے کہا کہ سی سی ڈی پنجاب میں امن و امان کیلیے کام کررہا تو رحیم یار خان اور کچے کے علاقہ میں بھی انہیں بھیجا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بل حکومتی رکن رانا محمد ارشد نے پنجاب اسمبلی سے منظور نے ایوان میں پیش کیا اسمبلی میں پیش کیا کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی ا ف نے کہا کہ سی سی ڈی
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔