امریکا: زیرِ سمندر آتش فشاں کے قریب زلزلے کے جھٹکے!
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
امریکی ریاست اوریگون کے ساحل پر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے یہ جھٹکے زیرِ سمندر موجود آتش فشاں (جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے) سے چند میل کے فاصلے پر محسوس کیے گئے ہیں۔
امریکا کے جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی صبح ایکسیل سی ماؤنٹ سے 100 میل کے فاصلے پر 4.8 اور 5.4 شدت کے دو زلزلوں کو ریکارڈ کیا گیا۔
ایکسیل سی ماؤنٹ اوریگون کے ساحل سے 300 میل کے فاصلے پر موجود ایک زیر سمندر آتش فشاں ہے جو ایک میل تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4900 فٹ سے زیادہ گہرائی میں موجود ہے۔
پہلا زلزلہ اس فعال آتش فشاں سے 25 میل کے فاصلے پر آیا جبکہ دوسرا اور زیادہ شدید زلزلہ اوریگون ساحل سے 70 میل کے فاصلے پر محسوس کیا گیا۔ دونوں زلزلے کے درمیان 18 منٹ کا وقفہ تھا۔
اگرچہ زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی لیکن اس آتش فشاں کا مطالعہ کرنے والے محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان دو وقوعات کی وجہ سے یہ پھٹنے کے مزید قریب تر ہوگیا۔
واضح رہے یہ آتش فشاں آخری بات 2015 میں پھٹا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میل کے فاصلے پر زلزلے کے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔