اگر آپ سمجھتے ہیں کہ چالان صرف ڈرائیور کا ہوتا ہے تو اب ہو جائیں ہوشیار کیونکہ موٹروے پولیس نے ایک نیا قانون متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت گاڑی میں بیٹھے مسافروں کا بھی چالان ہو گا۔

موٹروے پولیس نے نیا قانون متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت گاڑی میں بیٹھے ہر مسافر کے لیے سیٹ بیلٹ باندھنا لازمی ہو گیا ہے، ورنہ جرمانے سے بچنا ممکن نہیں۔ یعنی اب صرف ڈرائیور نہیں، آپ بھی ذمہ دار ہیں۔

 موٹروے پولیس کے مطابق اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانا اور حادثات کے دوران جانی نقصان کو کم کرنا ہے۔ نئی ہدایت کے تحت، موٹروے پر سفر کرنے والے تمام مسافروں کو اپنی نشست پر بیٹھتے ہی حفاظتی بیلٹ باندھنا لازمی ہو گا۔

موٹروے پولیس کے مطابق، اکثر حادثات میں مسافروں کے جانی نقصان کی بڑی وجہ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا ہے۔ اس لیے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیٹ بیلٹ کے استعمال کو اپنی عادت بنائیں اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے محفوظ سفر کو یقینی بنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ای چالان مسافروں کا چالان موٹروے پولیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ای چالان مسافروں کا چالان موٹروے پولیس موٹروے پولیس

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل