موٹروے پولیس کا نیا قانون: ڈرائیور کے ساتھ اب مسافروں کا بھی چالان ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ چالان صرف ڈرائیور کا ہوتا ہے تو اب ہو جائیں ہوشیار کیونکہ موٹروے پولیس نے ایک نیا قانون متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت گاڑی میں بیٹھے مسافروں کا بھی چالان ہو گا۔
موٹروے پولیس نے نیا قانون متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت گاڑی میں بیٹھے ہر مسافر کے لیے سیٹ بیلٹ باندھنا لازمی ہو گیا ہے، ورنہ جرمانے سے بچنا ممکن نہیں۔ یعنی اب صرف ڈرائیور نہیں، آپ بھی ذمہ دار ہیں۔
موٹروے پولیس کے مطابق اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانا اور حادثات کے دوران جانی نقصان کو کم کرنا ہے۔ نئی ہدایت کے تحت، موٹروے پر سفر کرنے والے تمام مسافروں کو اپنی نشست پر بیٹھتے ہی حفاظتی بیلٹ باندھنا لازمی ہو گا۔
موٹروے پولیس کے مطابق، اکثر حادثات میں مسافروں کے جانی نقصان کی بڑی وجہ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا ہے۔ اس لیے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیٹ بیلٹ کے استعمال کو اپنی عادت بنائیں اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے محفوظ سفر کو یقینی بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ای چالان مسافروں کا چالان موٹروے پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ای چالان مسافروں کا چالان موٹروے پولیس موٹروے پولیس
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔