کراچی، ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر کا گن مین گرفتار، لیاقت محسود کی گرفتاری کیلیے چھاپے
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گزشتہ روز کراچی کے علاقے رام سوامی میں ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود کے محافظ کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ملوث گن مین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کے ترجمان کے مطابق، گرفتار شخص کی شناخت معراج کے نام سے ہوئی ہے، اور اس کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لیاقت محسود کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد مزید کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔
خیال رہے کہ رام سوامی میں گذشتہ روز گزدرآباد اسپتال کے قریب ڈمپر کی ٹکر سے شاہ زیب نامی نوجوان جاں بحق ہو گیا تھا، جس پر مشتعل شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے ڈمپر کو آگ لگا دی تھی۔
واقعے کی اطلاع پر لیاقت محسود اپنے محافظوں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں ہجوم کے پتھراؤ کے بعد ان کے گن مین نے فائرنگ کی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت محسود
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک