مدینہ منورہ اور ریاض یونیسکو کے تخلیقی شہروں کی فہرست میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
مدینہ منورہ اور ریاض کو یونیسکو کے تخلیقی شہروں کے عالمی نیٹ ورک 2025 میں شامل کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مِسک گلوبل فورم 19 اور 20 نومبر کو ریاض میں ہوگا
اس طرح سعودی عرب کے 5 شہر عالمی سطح پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف کے حامل بن گئے۔
Riyadh and Madinah join UNESCO’s Creative Cities Network alongside Al-Ahsa, Buraidah, and Taif, highlighting Saudi Arabia’s growing footprint in global creativity.
— CIC Saudi Arabia (@CICSaudi) November 5, 2025
ریاض کو ڈیزائن، مدینہ منورہ اور بریدہ کو گیسٹرونومی (فنِ طعام)، طائف کو ادب اور الاحساء کو دستکاری کے شعبے میں نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: مدینہ منورہ: وژن 2030 کے تحت بہترین اقدامات، زائرین کے قیام کے دورانیے میں دوگنا اضافہ
یہ اقدام اس عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے جو پائیدار شہری ترقی میں ثقافت اور تخلیقیت کے فروغ کو بنیاد بناتا ہے اور سعودی شہروں کی تخلیقی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ریاض مدینہ منورہ یونیسکو کی تخلیقی شہروں کی فہرست
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریاض یونیسکو کی تخلیقی شہروں کی فہرست
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔