40 ارب روپے کا کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل، ماسٹر مائنڈ کے گھر سے مزید 20 کروڑ روپے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق اربوں روپے قیصر اقبال کی اہلیہ اور ایک کنٹریکٹر ممتاز کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے جبکہ متعدد بااثر شخصیات کو بھی اس اسکینڈل سے فائدہ پہنچانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کوہستان میں 40 ارب روپے کے میگا کرپشن کیس میں ایک اور بڑی پیشرفت سامنے آگئی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے کارروائی کے دوران ماسٹر مائنڈ قیصر اقبال کے گھر سے مزید 20 کروڑ روپے برآمد کر لیے۔ دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 10،10 کروڑ روپے برآمد کیے گئے۔ اس سے قبل قیصر اقبال کے گھر سے ایک ارب 60 کروڑ روپے ملے تھے۔ رقم پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی جس کی نشاندہی انکی گرفتار اہلیہ نے کی۔ نیب کے مطابق قیصر اقبال سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ اپر کوہستان میں اگست 2013 سے بطور کلرک اور بعد میں ہیڈ کلرک تعینات رہے۔
اس دوران انہوں نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات تیار کر کے سرکاری خزانے سے رقم غیر قانونی طور پر نکالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق اربوں روپے قیصر اقبال کی اہلیہ اور ایک کنٹریکٹر ممتاز کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے جبکہ متعدد بااثر شخصیات کو بھی اس اسکینڈل سے فائدہ پہنچانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیصر اقبال کروڑ روپے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔