خیبر پختونخوا، مطلوب اشتہاری دہشتگردوں کی فہرست تیار، سر کی قیمت بھی مقرر
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
مذکورہ فہرست میں 1349 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے کوائف شامل ہیں اور فہرست میں شامل دہشت گردوں کے سر کی قیمت بھی مقرر ہے۔ فہرست میں شامل 59 دہشت گردوں کی سر کی قیمت ایک سے 3 کروڑ روپے تک مقرر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں مطلوب اشتہاری دہشت گردوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اور متعدد دہشت گردوں کی سر کی قیمت بھی مقرر کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے مطلوب اشتہاری دہشت گردوں کی فہرست صوبائی انتظامیہ اور حساس اداروں نے مل کر تیار کی ہے اور صوبائی حکومت کی تیار کردہ فہرست وفاقی وزارت داخلہ کو موصول ہوگئی ہے۔ مذکورہ فہرست میں 1349 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے کوائف شامل ہیں اور فہرست میں شامل دہشت گردوں کے سر کی قیمت بھی مقرر ہے۔ فہرست میں شامل 59 دہشت گردوں کی سر کی قیمت ایک سے 3 کروڑ روپے تک مقرر ہے۔
کرم کے کاظم خان کے سر کی قیمت 3 کروڑ روپے رکھی گئی ہے اور دہشت گردوں کے کمانڈر امجد اللہ کے سر کی قیمت 2 کروڑ روپے ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ باجوڑ کے مولوی فقیر محمد کا نام بھی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے اور اس کے سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے، دہشت گردوں کا تعلق پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، سوات اور دیگر علاقوں سے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سر کی قیمت بھی مقرر گردوں کی فہرست فہرست میں دہشت گردوں کے دہشت گردوں کی کے سر کی قیمت کروڑ روپے مقرر ہے ہے اور
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔