Nawaiwaqt:
2026-07-24@09:10:53 GMT

پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والوں کے لئے نئی پالیسی نافذ

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والوں کے لئے نئی پالیسی نافذ

اسلام آباد : پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والوں کے لئے نئی پالیسی نافذ کردی گئی .روانگی سے قبل خصوصی کلیئرنس حاصل کرنا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سے بذریعہ ایجنٹ غیر قانونی طریقے سے یورپ ودیگر ممالک جانے کے معاملے اور بڑھتے واقعات کے بعد ایف آئی اے نے نئی پالیسی نافذ کر دی۔ذرائع نے بتایا کہ اب دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو کراچی سے بیرونِ ملک روانگی سے قبل خصوصی کلیئرنس حاصل کرنا ہوگی۔ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے وہ مسافر جو پہلی بار بیرونِ ملک سفر کر رہے ہیں اور جن کا تعلق سندھ سے نہیں، انہیں عارضی طور پر سفر سے روک دیا جا رہا ہے، ایجنٹ شہریوں کو گمراہ کر کے بیرون ملک لے جاتے پھرکشتی میں سوار کرادیتے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ متعدد مسافر دیگر صوبوں سے آ کر کراچی ایئرپورٹ سے بیرونِ ملک روانہ ہوتے ہیں، جن میں سے بعض کو ایجنٹس گمراہ کر کے غیر قانونی راستوں سے یورپ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔امیگریشن ذرائع نے مزید بتایا کہ پنجاب سے جاری پاسپورٹ رکھنے والے مسافر کراچی ایئرپورٹ سے پہلا غیر ملکی سفر نہیں کر سکیں گے، نئی پالیسی کے تحت سائپرس جانے والے مسافروں کو بھی روک دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی رپورٹ صبح و شام جمع کرائی جائے، گزشتہ دو روز میں سیکڑوں مسافروں کو مختلف پروازوں سے آف لوڈ کیا جا چکا ہے۔صرف سعودی ایئرلائن کی پرواز ایس وی-709 سے 57 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا جن میں 35 عمرہ زائرین اور 22 افراد ملازمت کے ویزوں پر شامل تھے۔ایئرلائنز نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے بورڈنگ کارڈ جاری کرنے کے بعد مسافروں کو آف لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے.

تاہم ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے مسافروں کے پاسپورٹ پر آف لوڈ کی مہر نہیں لگائی جا رہی، جس سے مسافروں کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ ایک سال میں عموماً تین سے چار سپر مونز دیکھنے کو ملتے ہیں. رواں برس کے تین مسلسل سپر مونز اکتوبر، نومبر، اور دسمبر میں یہ اس سلسلے کا دوسرا سپر مون ہے۔ماہرین کے مطابق عام نظر سے یہ فرق معمولی لگتا ہے، تاہم چاند 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن ہوسکتا ہے، جبکہ غیر معمولی قریب سپر مونز نایاب فلکیاتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نئی پالیسی مسافروں کو ایف آئی اے آف لوڈ کی

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا