پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والوں کے لئے نئی پالیسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد : پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والوں کے لئے نئی پالیسی نافذ کردی گئی .روانگی سے قبل خصوصی کلیئرنس حاصل کرنا ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان سے بذریعہ ایجنٹ غیر قانونی طریقے سے یورپ ودیگر ممالک جانے کے معاملے اور بڑھتے واقعات کے بعد ایف آئی اے نے نئی پالیسی نافذ کر دی۔ذرائع نے بتایا کہ اب دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو کراچی سے بیرونِ ملک روانگی سے قبل خصوصی کلیئرنس حاصل کرنا ہوگی۔ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے وہ مسافر جو پہلی بار بیرونِ ملک سفر کر رہے ہیں اور جن کا تعلق سندھ سے نہیں، انہیں عارضی طور پر سفر سے روک دیا جا رہا ہے، ایجنٹ شہریوں کو گمراہ کر کے بیرون ملک لے جاتے پھرکشتی میں سوار کرادیتے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ متعدد مسافر دیگر صوبوں سے آ کر کراچی ایئرپورٹ سے بیرونِ ملک روانہ ہوتے ہیں، جن میں سے بعض کو ایجنٹس گمراہ کر کے غیر قانونی راستوں سے یورپ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔امیگریشن ذرائع نے مزید بتایا کہ پنجاب سے جاری پاسپورٹ رکھنے والے مسافر کراچی ایئرپورٹ سے پہلا غیر ملکی سفر نہیں کر سکیں گے، نئی پالیسی کے تحت سائپرس جانے والے مسافروں کو بھی روک دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی رپورٹ صبح و شام جمع کرائی جائے، گزشتہ دو روز میں سیکڑوں مسافروں کو مختلف پروازوں سے آف لوڈ کیا جا چکا ہے۔صرف سعودی ایئرلائن کی پرواز ایس وی-709 سے 57 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا جن میں 35 عمرہ زائرین اور 22 افراد ملازمت کے ویزوں پر شامل تھے۔ایئرلائنز نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے بورڈنگ کارڈ جاری کرنے کے بعد مسافروں کو آف لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے.
واضح رہے کہ ایک سال میں عموماً تین سے چار سپر مونز دیکھنے کو ملتے ہیں. رواں برس کے تین مسلسل سپر مونز اکتوبر، نومبر، اور دسمبر میں یہ اس سلسلے کا دوسرا سپر مون ہے۔ماہرین کے مطابق عام نظر سے یہ فرق معمولی لگتا ہے، تاہم چاند 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن ہوسکتا ہے، جبکہ غیر معمولی قریب سپر مونز نایاب فلکیاتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نئی پالیسی مسافروں کو ایف آئی اے آف لوڈ کی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔