پاکستان کی سفارتکاری نئے اعتماد اور استحکام کے دور میں داخل ہو چکی ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جو ملکی مفادات، علاقائی تعاون اور عالمی سطح پر اعتماد و استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا ہر موسم کا دوست ہے اور دونوں ممالک سی پیک فیز تھری پر تیزی سے کام بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی میں واضح پیش رفت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہے ہیں، جبکہ سی پیک فیز تھری کے منصوبے پاکستان کی معاشی ترقی اور علاقائی رابطوں کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ وسط ایشیائی ممالک، بالخصوص آذربائیجان اور ترکمانستان تک پاکستان کی رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی کہ پاکستان
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔