تارکین وطن پاکستانی “پاک آئی ڈی” ایپ پرگاڑیاں رجسٹر کروا سکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک نئی ڈیجیٹل سہولت متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے وہ اب گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے عمل کو پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے مکمل کر سکیں گے۔
ڈائریکٹر ایکسائز بلال اعظم نے کہا کہ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستانی سفارتخانوں کے چکر لگانے یا وکالت نامے بھیجنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اب گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے وہ پاک آئی ڈی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔ وہاں اپنی بایومیٹرکس ریکارڈ کرائیں، اور ہم گاڑی کے ٹرانسفر کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے زور دیا کہ ایپ کے ذریعے بایومیٹرکس جمع کرانا شناخت کے ثبوت کے طور پر کام کرے گا، جس سے علیحدہ ٹرانسفر آرڈرفارم کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تاہم انہوں نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں سے کہا کہ مناسب دستاویزات کا خیال رکھیں۔ بلال اعظم نے کہا کہ جب بھی آپ کوئی گاڑی بیچیں، تو براہ کرم اپنے ٹرانسفر لیٹر پر دستخط کریں اور خریدار کو حوالے کریں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بایومیٹرک تصدیق اور دستخط شدہ ٹرانسفر لیٹر قانونی تقاضے ہیں۔ ایک اور اہم اعلان میں بلال اعظم نے اسلام آباد میں ٹوکن ٹیکس کے بقایا جات کی وصولی کے لیے کارروائی کا اعلان کیا۔بلال اعظم نے کہا کہ جب بھی آپ کوئی گاڑی بیچیں، تو براہ کرم اپنے ٹرانسفر لیٹر پر دستخط کریں اور خریدار کو حوالے کریں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بایومیٹرک تصدیق اور دستخط شدہ ٹرانسفر لیٹر قانونی تقاضے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹرانسفر لیٹر بلال اعظم نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔