کراچی: مشرک کالونی میں نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے ٹرک اڈے کے منیجرکو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کراچی میں موچکو کے علاقے باکس بے مشرک کالونی میں نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے ٹرک اڈے کے منیجرکو قتل کردیا۔
رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح موچکو تھانے کےعلاقے باکس بے مشرک کالونی 500 کوارٹرسیکٹر 6 ڈی کنٹینر یارڈ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے موٹر سائیکل سوار شخص کو قتل کردیا اورموقع پرسے فرارہوگئے۔
مقتول کی لاش قانونی کارروائی کے لیے سول ٹراما سینٹرمنتقل کردی گئی،مقتول کی شناخت 45 سالہ فاروق خان ولد محمد امیرخان کے نام سے کی گئی، مقتول ٹرک اڈے کا منیجراورمشرف کالونی کا رہائشی تھا اوراس کا آبائی تعلق میاںوالی سے تھا۔
فائرنگ کے واقعے کی اطلاع پرپولیس موقع پرپہنچ گئی اورپولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کرلیا۔
ایس ایچ اوموچکو فیصل لطیف نے بتایا کہ مقتول فاروق خان کو سینے پر ایک گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی، واقعہ لوٹ مار کا نہیں لگتا، مقتول کے پاس اس کی تمام ضروری چیزیں اورموٹرسائیکل موجود تھی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخشانہ معلوم ہوتا ہے اورایک سال قبل مقتول کےآبائی علاقے میں اس کے ایک رشتہ دار کو بھی قتل کیا گیا تھا۔
ایس ایچ او نے بتایاکہ پولیس نے موقع پر پہنچ کرسی سی ٹی وی فوٹیج سمت دیگر واقعاتی شواہد اکھٹا کرکے واقعے کی مختلف پہلووں پر باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ قتل کی اصل وجہ معلوم ہوسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔