کراچی: ملیر ٹنکی اسٹاپ پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے نوجوان موٹرسائیکل سوار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں ملیر ٹنکی اسٹاپ پر ایک افسوسناک حادثے میں نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے 17 سالہ موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔
چھیپا حکام کے مطابق، جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت شاہ زیب ولد شاہد کے طور پر ہوئی ہے جس کی چار ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔
حادثے کے فوراً بعد شاہ زیب کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی اس کے بعد، چھیپا ایمبولینس کے ذریعے اس کی میت کو سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ضروری کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد اسے چھیپا سردخانے منتقل کر دیا گیا۔
متوفی شاہ زیب کے والد شاہد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے محبت کی شادی کی تھی تاہم اس کی زندگی کا یہ سفر نہایت افسوسناک طریقے سے ختم ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔