ڈیرہ بگٹی میں ٹریکٹر ٹرالی الٹنے سے 3 افراد جاں بحق، 16 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ٹریکٹر ٹرالی الٹنے سے 3 افراد جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوگئے۔ افسوسناک حادثہ سوئی روڈ پر جن موڑ کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی بے قابو ہوکر الٹ گئے، حادثے میں 3 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 16 افراد زخمی ہوگئے۔ اسلام ٹائمز۔ ٹریکٹر ٹرالی الٹنے سے 3 افراد جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوگئے۔ افسوسناک حادثہ سوئی روڈ پر جن موڑ کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی بے قابو ہوکر الٹ گئے، حادثے میں 3 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 16 افراد زخمی ہوگئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی لیویز اہلکار اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر محمد حسنین ابڑو اور ایریا انچارج اے ڈی بگٹی لیویز کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے، وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹریکٹر ٹرالی زخمی ہوگئے جبکہ 16
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔