موسم گرما کے دوران قومی گرڈ سے بجلی کا حصول 28 سے 30 گیگا واٹ رہا، جبکہ صارفین نے قومی گرڈ کے مقابلے میں 33 گیگا واٹ شمسی توانائی کی صلاحیت کو استعمال کرکے بجلی استعمال کی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں شمسی توانائی کا استعمال تاریخی سنگ میل عبور کر گیا، جبکہ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار اکویٹ ایبل ڈیولپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں موسم گرما کے دوران قومی گرڈ سے بجلی کا حصول 28 سے 30 گیگا واٹ رہا، جبکہ صارفین نے قومی گرڈ کے مقابلے میں 33 گیگا واٹ شمسی توانائی کی صلاحیت کو استعمال کرکے بجلی استعمال کی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے پینلز 50 گیگا واٹ تک درآمد کیے گئے، جبکہ قومی بجلی گرڈ کی کُل نصب شدہ صلاحیت تقریبا 46 گیگا واٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبوں میں پنجاب شمسی توانائی کے استعمال میں سرفہرست رہا ہے، شمسی توانائی کے استعمال میں سندھ دوسرے، خیبر پختونخوا تیسرے اور بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمسی توانائی میں رہائشی شعبہ 16.

66 گیگا واٹ کے استعمال کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ تجارتی شعبہ 3.73 گیگاواٹ، صنعتی شعبہ 7.91 گیگاواٹ اور زرعی شعبے میں 5.04 گیگاواٹ سولر کا استعمال ہے۔ رپورٹ کے مطابق توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 77 فیصد صارفین اپنے شمسی نظام پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ نیشنل گرڈ سے بجلی کے حصول کیلئے 23 فیصد صارفین انحصار کر رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق شمسی توانائی گیگا واٹ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل