پاکستان میں شمسی توانائی کا استعمال تاریخی سنگ میل عبور کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
موسم گرما کے دوران قومی گرڈ سے بجلی کا حصول 28 سے 30 گیگا واٹ رہا، جبکہ صارفین نے قومی گرڈ کے مقابلے میں 33 گیگا واٹ شمسی توانائی کی صلاحیت کو استعمال کرکے بجلی استعمال کی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں شمسی توانائی کا استعمال تاریخی سنگ میل عبور کر گیا، جبکہ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار اکویٹ ایبل ڈیولپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں موسم گرما کے دوران قومی گرڈ سے بجلی کا حصول 28 سے 30 گیگا واٹ رہا، جبکہ صارفین نے قومی گرڈ کے مقابلے میں 33 گیگا واٹ شمسی توانائی کی صلاحیت کو استعمال کرکے بجلی استعمال کی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے پینلز 50 گیگا واٹ تک درآمد کیے گئے، جبکہ قومی بجلی گرڈ کی کُل نصب شدہ صلاحیت تقریبا 46 گیگا واٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبوں میں پنجاب شمسی توانائی کے استعمال میں سرفہرست رہا ہے، شمسی توانائی کے استعمال میں سندھ دوسرے، خیبر پختونخوا تیسرے اور بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمسی توانائی میں رہائشی شعبہ 16.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق شمسی توانائی گیگا واٹ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔