data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سولرائزیشن کے نتیجے میں دن کے اوقات میں بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث طلب 6 ہزار میگاواٹ تک کم ہو گئی ہے۔

نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کے حکام کے مطابق بعض اوقات سورج کی روشنی میں بجلی کی طلب 15 ہزار میگاواٹ سے بھی نیچے آ جاتی ہے، جب کہ رات کے اوقات میں یہی طلب بڑھ کر 21 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ گھروں اور دفاتر میں سولر پینلز کے زیادہ استعمال کے باعث دن میں قومی گرڈ سے بجلی کی ضرورت کم پڑ گئی ہے، جبکہ رات کے وقت کھپت میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ پاور پلانٹس کو بہت کم وقت میں مکمل طور پر چلانا یا بند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز نیپرا کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف ایک دن میں سولر توانائی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں 6 ہزار میگاواٹ کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کی وجہ سے صنعتی شعبے کی کھپت بھی کم ہو رہی ہے۔ حکومت اب صنعتوں کو خصوصی رعایتی پیکج دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے اور مجموعی توانائی کھپت کے توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔

 

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہزار میگاواٹ بجلی کی کی کھپت

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف