سولرائزیشن کے باعث دن کو بجلی کی کھپت 6 ہزار میگاواٹ تک گرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سولرائزیشن کے نتیجے میں دن کے اوقات میں بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث طلب 6 ہزار میگاواٹ تک کم ہو گئی ہے۔
نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کے حکام کے مطابق بعض اوقات سورج کی روشنی میں بجلی کی طلب 15 ہزار میگاواٹ سے بھی نیچے آ جاتی ہے، جب کہ رات کے اوقات میں یہی طلب بڑھ کر 21 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ گھروں اور دفاتر میں سولر پینلز کے زیادہ استعمال کے باعث دن میں قومی گرڈ سے بجلی کی ضرورت کم پڑ گئی ہے، جبکہ رات کے وقت کھپت میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ پاور پلانٹس کو بہت کم وقت میں مکمل طور پر چلانا یا بند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز نیپرا کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف ایک دن میں سولر توانائی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں 6 ہزار میگاواٹ کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کی وجہ سے صنعتی شعبے کی کھپت بھی کم ہو رہی ہے۔ حکومت اب صنعتوں کو خصوصی رعایتی پیکج دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے اور مجموعی توانائی کھپت کے توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزار میگاواٹ بجلی کی کی کھپت
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔