حماس کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ مختلف فلسطینی دھڑوں نے جنگ کے بعد غزہ کا انتظام ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے پر اتفاق کرلیا۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ اعلان حماس کی جانب سے بلائے گئے فلسطینی تنظیموں کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں سامنے آیا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جنگ کے اختتام کے بعد غزہ کی انتظامی ذمہ داری ایک غیر سیاسی تکنیکی کمیٹی کو دی جائے گی جو روزمرہ امور اور تعمیرِ نو کے معاملات دیکھے گی۔

تاہم مشترکہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا فلسطینی اتھارٹی (فتح پارٹی) جس کی قیادت صدر محمود عباس کر رہے ہیں، اس معاہدے کا حصہ ہے یا نہیں۔

اسرائیلی اور عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق محمود عباس نے اپنے معاونین کو اس اجلاس میں شرکت سے روک دیا تھا کیونکہ اس میں حماس کی شمولیت پر تنازع پایا جاتا تھا۔

حماس کے بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی میں کون سے افراد شامل ہوں گے، اور ان کا انتخاب کس طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے اشارہ دیا تھا کہ غزہ کے لیے عبوری انتظامیہ کی تشکیل اس وقت ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف