اسرائیل کی جیل میں قید سرکردہ فلسطینی رہنما کی اہلیہ نے ٹرمپ سے رہائی کی اپیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
حماس نے بھی غزہ جنگ بندی معاہدے میں جس قیدی کی رہائی کو سرفہرست مطالبے کے طور پر رکھا تھا وہ 66 سالہ مروان برغوثی ہیں جو 23 سال سے قید کاٹ رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ سے مروان غوثی کی رہائی اپیل کی بات ان کے بیٹے عرب برغوثی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی۔
جنھوں نے تصدیق کی کہ میری ماں فدویٰ برغوثی نے امریکی صدر کے نام ایک اپیل جاری کی ہے۔ جس میں مروان برغوثی کی رہائی کی اپیل کی گئی ہے۔
فدویٰ برغوثی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب صدر، ایک ایسا حقیقی شراکت دار آپ کا منتظر ہے جو خطے میں پائیدار امن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اپنے بیان میں انھوں نے صدر ٹرمپ سے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کی آزادی اور آئندہ نسلوں کے امن کے لیے مروان برغوثی کی رہائی میں مدد کریں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مروان برغوثی کو رہا کیا جاتا ہے تو وہ فلسطینی سیاست میں محمود عباس کے ممکنہ جانشین کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔
بعض مبصرین کے نزدیک ان کی رہائی فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمت کے عمل کو تیز کر سکتی ہے، جبکہ اسرائیلی حلقوں میں اس پر شدید مخالفت متوقع ہے۔
یاد رہے کہ آج ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس کوئی متحرک قیادت نہیں ہے۔ محمود عباس بزرگ ضرور ہیں لیکن لیڈر نہیں۔
یاد رہے کہ مروان برغوثی پر الزام ہے کہ انھوں نے اسرائیلی شہریوں پر مہلک حملوں میں کردار ادا کیا تاہم فلسطینی عوام کی ایک بڑی تعداد انھیں “فلسطین کا نیلسن منڈیلا” قرار دیتی ہے۔
مروان برغوثی فتح تحریک کے ایک اہم رہنما ہیں اور ماضی میں اسرائیل سے جنگ میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔
وہ کئی مرتبہ جیل کے اندر سے بھوک ہڑتال کی قیادت بھی کر چکے ہیں، جس نے انھیں فلسطینی مزاحمت کی علامت بنا دیا ہے۔
امریکی جریدے ٹائم میگزین کو 15 اکتوبر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے جب مروان برغوثی کی رہائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر فیصلہ کرنے والے ہیں تاہم کوئی ٹائم لائن نہیں دی۔
دوسری جانب اسرائیل میں ایک بریفنگ کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ میرے پاس اس موضوع پر اس وقت کہنے کو کچھ نیا نہیں ہے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اس ماہ کے آغاز میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی یہودی برادری کے معروف رہنما رونالڈ لاؤڈر بھی مروان برغوثی کی رہائی کے لیے خاموش سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مروان برغوثی کی رہائی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔