جرمنی بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی، ریاست کا قیام اور امن مذاکرات ناگزیر قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوبارہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے انکار کرتے ہوئے کہا فلسطینی ریاست کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا ہے، ہمارے عوام فلسطینی ریاست کے خلاف ہیں، مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔ اسلام ٹائمز۔ جرمنی بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی، فلسطینی ریاست کا قیام اور امن مذاکرات ناگزیر قرار دے دیئے۔ جرمن چانسلر نے تل ابیب میں نیتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ٹرمپ پلان کے دوسرے مرحلے کا آغاز ضروری ہے، اسرائیل کو بعض معاملات میں انٹرنیشنل نگرانی قبول کرنا ہوگی، حماس کا غزہ میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نیا مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں، جہاں فلسطینی ریاست تسلیم کی جائے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوبارہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے انکار کرتے ہوئے کہا فلسطینی ریاست کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا ہے، ہمارے عوام فلسطینی ریاست کے خلاف ہیں، مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطین کے دو ریاستی حل فلسطینی ریاست ریاست کا
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔