جرمنی بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی، ریاست کا قیام اور امن مذاکرات ناگزیر قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوبارہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے انکار کرتے ہوئے کہا فلسطینی ریاست کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا ہے، ہمارے عوام فلسطینی ریاست کے خلاف ہیں، مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔ اسلام ٹائمز۔ جرمنی بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی، فلسطینی ریاست کا قیام اور امن مذاکرات ناگزیر قرار دے دیئے۔ جرمن چانسلر نے تل ابیب میں نیتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ٹرمپ پلان کے دوسرے مرحلے کا آغاز ضروری ہے، اسرائیل کو بعض معاملات میں انٹرنیشنل نگرانی قبول کرنا ہوگی، حماس کا غزہ میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نیا مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں، جہاں فلسطینی ریاست تسلیم کی جائے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوبارہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے انکار کرتے ہوئے کہا فلسطینی ریاست کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا ہے، ہمارے عوام فلسطینی ریاست کے خلاف ہیں، مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطین کے دو ریاستی حل فلسطینی ریاست ریاست کا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔