خاتون کرکٹر نے منگیتر سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، پروپوزل ویڈیو سمیت تمام تصاویر ڈیلیٹ کردیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
بھارتی خاتون کرکٹر سمریتی مندھنا نے اپنے منگیتر پلاش موچل سے شادی پہلے موخر کی لیکن اب شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے منگنی کی پروپوزل ویڈیو سمیت وہ تمام تصاویر ڈیلیٹ کردیں جن میں ان کے منگیتر نظر آ رہے تھے۔
بھارتی کرکٹر سمریتی مندھنا اور میوزک کمپوزر پلاش موچل کی شادی 24 نومبر 2025 کو ہونا تھی، تاہم شادی سے چند گھنٹے قبل ہی سمریتی کے والد کی طبیعت بگڑنے اور اسپتال منتقل ہونے کے باعث تقریب ملتوی کر دی گئی۔
اگلے روز پلاش موچل بھی سینے میں تکلیف اور سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال پہنچ گئے۔
چند روز تک اس بات کی شدید بحث جاری رہی کہ شادی ہو گی یا نہیں، لیکن اتوار کے روز دونوں نے اپنے بیانات کے ذریعے واضح کر دیا کہ اب شادی منسوخ کر دی گئی ہے۔
منگیتر نے پروپوزل ویڈیو اور ورلڈ کپ جیت کی کلپ بھی ڈیلیٹ کر دیشادی منسوخی کے اعلان کے بعد دونوں نے پہلے ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر ان فالو کیا۔
سمریتی مندھنا نے اپنے اکاؤنٹس سے شادی اور پری ویڈنگ تقریبات سے متعلق تمام تصاویر اور ویڈیوز بھی ہٹا دیں۔
اب پلاش موچل نے بھی وہ تمام پوسٹس ڈیلیٹ کرنا شروع کر دی ہیں جن میں وہ سمریتی کے ساتھ نظر آتے ہیں، جن میں پروپوزل ویڈیو اور ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ جیت کے جشن کا کلپ بھی شامل ہے۔ تاہم ان کے اکاؤنٹس پر کچھ ایسی پوسٹس اب بھی موجود ہیں جن پر عوام کی جانب سے شدید تنقیدی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
پلاش موچل کا مؤقفپلاش موچل نے اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں لکھا کہ میں نے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور اپنے ذاتی تعلقات سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے یہ بہت تکلیف دہ رہا کہ لوگ بغیر کسی بنیاد کے افواہوں پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ میری زندگی کا مشکل ترین دور ہے، لیکن میں اسے وقار کے ساتھ قبول کروں گا۔ امید ہے کہ بطور معاشرہ ہم غیر مصدقہ خبروں پر فیصلہ صادر کرنے سے پہلے رُکنا سیکھیں گے۔
سمریتی مندھنا کا بیاندوسری طرف سمریتی مندھنا نے بھی اپنے بیان میں شادی منسوخ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں میری زندگی سے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں ہوئیں، اور اب ضروری ہے کہ میں واضح کروں کہ شادی منسوخ کر دی گئی ہے۔
میں ایک پرائیویٹ زندگی گزارنے والی انسان ہوں اور چاہتی ہوں کہ اس معاملے کو یہیں ختم کر دیا جائے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ آپ سب سے گزارش ہے کہ دونوں خاندانوں کی پرائیویسی کا احترام کریں اور ہمیں اپنے طور پر آگے بڑھنے دیں۔
اپنے کیریئر کے حوالے سے سمریتی نے کہا کہ میری زندگی کا مقصد ہمیشہ اپنے ملک کی نمائندگی کرنا رہا ہے۔ میں بھارت کے لیے کھیلتی رہوں اور مزید ٹرافیاں جیتوں۔ یہی میرا فوکس ہے۔
آپ سب کی محبت اور حمایت کا شکریہ۔ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی خاتون کرکٹر سمریتی مندھنا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی خاتون کرکٹر سمریتی مندھنا سمریتی مندھنا ڈیلیٹ کر
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں