ترکیہ نے اپنے جنگی ڈرونز پاکستان میں بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا،بلوم برگ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ترکیہ نے اپنے جنگی ڈرونز پاکستان میں بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا،بلوم برگ کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 December, 2025 سب نیوز
استنبول (سب نیوز)امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق ترکیہ نے اپنے جنگی ڈرونز پاکستان میں بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔
امریکی خبر رساں ادارے نے ترک حکام کے حوالے سے بتایا ترکیہ اس منصوبے کے تحت اپنے اسٹیلتھ اور طویل پرواز کی صلاحیت کے حامل جدید ڈرونز پاکستان میں اسمبل کرے گا۔ جس سے پاکستان کو اعلی درجے کی دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی جبکہ ترکیہ کو اپنے ہتھیاروں کی عالمی منڈی میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملے گا۔رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت اسٹیلتھ اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرون کے پرزے پاکستان برآمد ہوں گے جہاں انہیں جوڑا جائے گا۔
بلوم برگ کا کہناہے کہ ترکیے مشترکہ پیداواری معاہدے کے تحت پاکستانی بحریہ کیلئے جنگی جہازوں کی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکیے نے رواں سال کئی ممالک سے دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جن میں انڈونیشیا کی جانب سے لڑاکا طیاروں کا آرڈر بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ترکیے کے سعودی عرب اور شام کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے بھی موجود ہیں۔
واضح رہے کہ دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر مضبوط کرنا صدر رجب طیب ایردوان کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اور اسی حکمتِ عملی کے تحت ترکیہ نے رواں سال انڈونیشیا کو لڑاکا طیاروں کا آرڈر دیا جبکہ سعودی عرب اور شام کو مزید اسلحہ فروخت کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک بن جائیگا، محمود خان اچکزئی کا اعلان گورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک بن جائیگا، محمود خان اچکزئی کا اعلان حق و باطل کی جنگ کا آخری مرحلہ شروع ،ہمیں کوے سے نہیں لڑنا اونچی اڑان کرنی ہے، وزیراعلی خیبرپختونخوا بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کی بڑی کارروائی، 3ملین امریکی ڈالر مالیت کی 1500کلو حشیش برآمد،آئی ایس پی آر ڈی آئی جی اسلام آباد کا جرائم میں ملوث ہونے پر غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کل دو روزہ دورہ پر پاکستان پہنچیں گے حکمران طبقہ عوام کو ریلیف نہیں دے رہا، اشرافیہ کے چند لوگوں نے پورے نظام پر قبضہ کیا ہوا ہے،حافظ نعیم الرحمنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈرونز پاکستان میں ترکیہ نے بلوم برگ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔