مقبوضہ کشمیر: اقوامِ متحدہ کی ہوشربا رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251208-03-2
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی جبر کوئی نئی بات نہیں، لیکن نریندر مودی کے دورِ اقتدار نے اس تاریک تاریخ میں سفاکیت اور انسانیت سوز رویّوں کا ایسا اضافہ کیا ہے جس پر عالمی برادری بھی اب خاموش نہیں رہ سکتی۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی حالیہ رپورٹ نے اس ظلم کی وہ پرتیں کھولی ہیں جنہیں دہائیوں سے بھارتی پروپیگنڈا اور میڈیا سنسرشپ کے پردوں میں چھپایا جاتا رہا ہے۔ مودی سرکار کی حکومت، جس کی بنیاد ہندو انتہا پسندی اور طاقت کے زعم پر قائم ہے، نے پوری وادی کو ایک ایسی جیل میں بدل دیا ہے جہاں سانس لینا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ پہل گام حملے کے بعد بھارتی اقدامات کے نام پر جو کارروائیاں کی گئیں، وہ کسی جمہوری ملک کی نہیں بلکہ ایک جابرانہ ریاست کی نشانی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے مناسب الفاظ میں جس تشویش کا اظہار کیا ہے، وہ دراصل اس حقیقت کی گونج ہے کہ جموں و کشمیر انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا میدان بن چکا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی موجودگی اور عالمی نظرثانی کے باوجود بھارت نے جس بے حسی اور سنگدلی کے ساتھ وہاں کے مقامی لوگوں کا بنیادی حق چھینا ہے، وہ مودی حکومت کے سفاک چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بھارتی حکام نے انتہا پسندی کے نام پر 2,800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا، جن میں انسانی حقوق کے محافظ، مقامی رہنما، صحافی اور نوجوان شامل ہیں۔ ان میں سے کئی افراد آج بھی بلاجواز نظربند ہیں، جب کہ تشدد، جعلی مقابلوں اور مشتبہ ہلاکتوں کا سلسلہ مودی حکومت کے اشارے پر جاری ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جنہیں کسی بھی حوالے سے سیکورٹی پالیسی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ کشمیریوں کی آواز دبانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ مودی سرکار کے ہندو قوم پرست نظریات کے زیر ِ سایہ مسلمانوں اور کشمیری عوام کے خلاف نفرت کو حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں 1,900 مسلمانوں کی غیر قانونی ملک بدری، املاک کے انہدام، اور روز مرہ زندگی میں آئے روز ہونے والی ہراسانی کا ذکر صرف اعداد وشمار نہیں بلکہ ظلم کی وہ زندہ حقیقت ہے جسے دنیا اب مزید نظرانداز نہیں کر سکتی۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویہ صرف سماجی نفرت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھنے والی منظم مہم ہے، جس کا مقصد ایک کثیرالثقافتی ملک کو ہندو راج کی شکل دینا ہے۔ بھارت کی جانب سے رابطوں کی بار بار بندش، میڈیا پر قدغن، صحافیوں کی گرفتاری، اور انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی صرف اسی لیے ہے کہ سچ دنیا تک نہ پہنچ سکے۔ کسی بھی معاشرے میں صحافت کو خاموش کرنا ریاستی دہشت گردی کی سب سے بھیانک مثال ہے اور مودی حکومت نے اس ہتھیار کو بار بار استعمال کیا ہے۔ آج کشمیر دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سچ بولنا جرم اور سچ سننا ناقابل ِ معافی گناہ قرار دے دیا گیا ہے۔ بھارتی انسدادِ دہشت گردی قوانین کا اصل مقصد دہشت گردی روکنا نہیں بلکہ ریاستی جبر کو قانونی لبادہ پہنانا ہے۔ ان قوانین کے تحت نوجوانوں کو اٹھا کر غائب کر دینا، بغیر مقدمے کے برسوں جیلوں میں رکھنا، اور جب چاہے جھوٹے الزامات لگا دینا معمول بن چکا ہے۔ عالمی تنظیمیں بارہا کہہ چکی ہیں کہ یہ قوانین بھارت کے آئین، بین الاقوامی انسانی حقوق کے منشور اور بنیادی انصاف کے اصولوں سے براہ راست متصادم ہیں، لیکن مودی حکومت اپنی سیاسی بقا کے لیے ان قوانین کو استحصال کا ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔ کشمیری 75 سال سے ظلم سہنے کے باوجود آزادی کی امید پر جدوجہد جارہے رکھے ہوئے ہیں اور پرعزم ہیں۔ بھارت جتنا بھی جبر کرے، رابطے بند کرے، آوازیں دبائے، یا نوجوانوں کو لاپتا کرے،کشمیر کی مزاحمت آج بھی اسی مضبوطی سے کھڑی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے جس خوفناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، وہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر کا معاملہ محض سرحدی تنازع نہیں، یہ انسانیت، انصاف، اور بنیادی حقوق کی جنگ ہے۔ بھارتی ظلم و جبر کے مقابلے میں کشمیریوں کا حوصلہ آج بھی بلند ہے، اور جب تک وادی میں آزادی کی خواہش کا چراغ روشن ہے، ظلم کی یہ سیاہ رات ختم ہوکر رہے گی۔ ظلم کی حکومت کبھی قائم نہیں رہتی اور مودی سرکار کی سفاک پالیسیوں کا انجام بھی اسی اصول کے مطابق تاریخ کے کوڑے دان میں لکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مودی حکومت نہیں بلکہ متحدہ کے ظلم کی
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔