بھارتی ٹینک پھر نہر میں ڈوب گیا، فوجی مشقوں میں سنگین ناکامیوں کا نیا سلسلہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
بھارت میں معمول کی فوجی مشقوں کے دوران ایک اور بڑا حادثہ پیش آگیا ہے، جس نے بھارتی فوج کی تربیتی صلاحیت اور حفاظتی اقدامات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست راجستھان میں فوجی مشق کے دوران ایک بکتر بند ٹینک اندرا گاندھی نہر میں ڈوب گیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹینک نہر پار کرنے کی مشق کر رہا تھا۔ واقعے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوگئے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ جون 2024 میں لداخ میں اسی نوعیت کی مشق کے دوران ٹینک دریا میں بہہ گیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اس سے قبل اکتوبر 2022 میں بھی فائرنگ کی مشق کے دوران ٹینک کی بیرل پھٹنے سے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق بار بار پیش آنے والے یہ حادثات بھارتی فوج میں معیار، تربیت اور حفاظتی انتظامات کے سنگین مسائل کو ظاہر کرتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایک ٹینک معمولی نہر عبور نہ کر سکے تو حقیقی جنگی حالات میں اس کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں نے بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور تربیتی طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔