Islam Times:
2026-06-02@23:04:02 GMT

موضوع: افغانستان پاکستان مذاکرات۔۔۔۔ تازہ ترین صورت حال

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: افغانستان پاکستان مذاکرات۔۔۔۔ تازہ ترین صورت حال
مہمان تجزیہ نگار: محترمہ ڈاکٹر عائشہ طلعت صاحبہ
میزبان: سیدانجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
ممکنہ سوالات
پاکستان افغانستان مذاکرات کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
دونوں ممالک کو مذاکرات آگے بڑھانے میں کیا رکاوٹیں ہیں؟
ایران اور سعودی عرب نے ثالثی کی پیشکش کی اس سے پہلے قطر اور ترکی نے بھی کردار ادا کیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے ، مذاکرات کا مستقبل کیسا دیکھا جا رہا ہے؟
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
پاک افغان  اختلاف  صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ پورے خطے کے امن، تجارت، انسانی زندگی اور مستقبل سے جڑا سوال ہے
ریاض میں طالبان پاکستان مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔
ریاض میں ملاقات کی جس میں اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے طریقے تلاش کیے گئے
ذرائع کے مطابق مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوئے اور دونوں فریق اپنے سابقہ ​​موقف پر قائم رہے۔
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کی خرابی میں اہم مسئلہ باہمی اعتماد کی کمی ہے
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے مثبت ڈپلو میٹک اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے
چین اور ایران پاکستان کے تعلقات کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں
پاکستان کو بھی افغانستان کے حوالہ سے اپنی پالیسیوں کو درست سمت میں کرنے کی ضرورت ہے
امریکہ بگرام ایئر پورٹ پہ قبضہ کی ہوس رکھے ہوئے ہیں
چین اور ایران جیسے دوست ممالک   امریکہ کو افغانستان میں  سہلکاری دینے پہ پاکستان سے خوش نہ ہونگے
پاک افغان قضیئے مین تشویش ناک بات دو مسلم ممالک کا استعماری شہ پہ باہمی بر سر پیکار ہونا ہے
مسلم ممالک کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئں ،اور باہمی اتفاق کو قائم رکھنا چاہیئے
مسلم ممالک باہمی اتفاق سے مل کر رہنے کے لئے متفقہ لائحہ عمل بنانا چاہیئے
پاکستان میں امریکی مداخلت کو دن بدن بڑھتے ہوئے دیکھ کر چین نے سی پیک پلس کا آئیڈیا دیا تھا
سی پیک پلس میں ایک سڑک براستہ پاک افغان ایران تک پہنچنے کا منصوبہ ہے
لگتا ہے کہ سی پلس آئیڈیا نے امریکہ کو پریشان کردیا ہے
امریکی دباؤ بھی پاک افغان تعلقات کو بہتر نہیں ہونے دے رہا
بھارت جیسے ازلی دشمن کو بھی افغانستان میں مزید اپنی جڑیں پھیلانے کا موقع مل گیا ہے
بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ بھی پاک افغانستان تعلقات کو بہتر نہیں ہونے دے رہا۔
افغانستان کو بھارت کی مسلم دشمنی اور مکار سوچ سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے
امریکی استعمار کی  ملکی معیشت جنگی صنعت کاری اور انڈسٹری پہ چلتی ہے
امریکی خارجہ  پالیسی میں چالاک لومڑی کی  مکار سوچ کارفرما رہتی ہے
امریکی مدد کاغزہ میں یہ حال تھا کہ آٹے کے تھیلوں میں سے منشیات نکلی تھیں
پاکستان ایران اور افغانستان اس خطے کے اہم مسلم ممالک ہیں
افغانستان اور ایران کو بھارت سے خبردار اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے
امریکہ  نے بہت پلاننگ کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو برباد کیا  اور ہمیں آئی ایم ایف کا محتاج بنادیا ہے
پاکستان کو امریکی ہتھکنڈوں سے خبر دار اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تعلقات کو بہتر کی ضرورت ہے مسلم ممالک پاک افغان ہے امریکی

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟