کراچی سے لاہور جانے والی گرین لائن میں کھٹملوں کی بھرمار، ویڈیوز وائرل
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
کراچی سے لاہور جانے والی گرین لائن ٹرین میں صفائی کی ناقص صورتحال نے مسافروں کو شدید پریشانی میں کر دیا ہے۔ ٹرین میں مبینہ طور پر کھٹملوں کی موجودگی نے نہ صرف آرام دہ اور محفوظ سفر کے سرکاری دعوؤں پر سوال اٹھا دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ گرین لائن کی بوگیوں میں کھٹملوں کی بھرمار کے باعث مسافر پریشانی کے عالم میں سفر جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 ہزار تک کا بھاری کرایہ ادا کرنے کے باوجود ٹرین کی حالت نہایت خراب ہے جس کے سبب نہ صرف آرام دہ سفر ممکن نہیں رہا بلکہ صحت کے لیے بھی سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔
کراچی سے مارگلہ اسٹیشن چلنے والی گرین لائن میں کھٹملوں کا ڈیرہ، مسافر چیخنے لگے ،مسافروں کا کہنا ہے کہ دس ہزار کا ٹکٹ خرید کر کھٹملوں کے درمیان سفر کروایا جارہا ہے، سرکاری اور نجی ٹرین منیجر ایک دوسرے پر ڈالنے لگے،ریلوے حکام سے بار بار رابطہ کرنے پر بھی جواب نہیں دیا جارہا، pic.
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) December 7, 2025
ایک صارف نے ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ٹرین میں یہ گند ہے تو اکانومی کلاس میں لوگوں کا کیا حال ہوگا؟
پاکستان کی سب سے پریمیم ٹرین گرین لائن میں سفر کر رہے ہیں اور صفائی کے حا لات چیک کریں۔۔اگر اس ٹرین میں یہ گند ہے تو اکونومی کلاس میں لوگوں کا کیا حال ہوگا؟@pakistanrail @MohUmair87 https://t.co/YxKv0rO5X1
— Aneeb Zaheer (@aneebzaheer12) December 7, 2025
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ انہوں نے بارہا سفر کیا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کھٹملوں اور کاکروچوں سے تعارف نہ ہوا ہو۔ بزنس کیبن تک کاکروچ اور کھٹمل سے بھرے ہوتے ہیں اور کھانا انتہائی مہنگا اور کوالٹی تھرڈ کلاس سے بھی کئی درجے نیچے ہوتی ہے۔
بارہا سفر کیا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کھٹملوں اور کاکروچوں سے تعارف نہ ہوا ہو۔ بزنس کیبن تک کاکروچ اور کھٹمل سے بھرے ہوتے ہیں۔ اور کھانا انتہائی مہنگا اور کوالٹی تھرڈ کلاس سے بھی کئی درجے نیچے۔
— Omi Virk (@OmiVirkk) December 8, 2025
متاثرہ مسافروں کے مطابق بارہا شکایات کے باوجود ریلوے حکام کی جانب سے کوئی فوری یا مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس دوران سرکاری اور نجی ٹرین منیجر ایک دوسرے پر ذمہ داری منتقل کرتے رہے جس سے مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
مسافروں نے ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گرین لائن ٹرین میں فوری صفائی اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ انہیں محفوظ، معیاری اور آرام دہ سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گرین لائن
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔