عمان جانے والے ہوشیار، حکومت نے انرجی سیکٹر میں نیا ’لائسننگ سسٹم‘ نافذ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
مسقط: عمان کی وزارتِ محنت نے 7 دسمبر 2025 کو توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں متعدد پیشوں کے لیے لازمی “لائسنسنگ سسٹم” کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
وزارت کے مطابق ان شعبوں میں کام کرنے والے تمام افراد اور اداروں کو مخصوص پیشہ ورانہ لائسنس حاصل کرنا ہوگا، جس کی نگرانی عمانی ایسوسی ایشن فار انرجی اینڈ مائننگ اسکلز کرے گی۔
وزارتِ محنت نے وضاحت کی کہ جن پیشوں کے لیے لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے، ان کی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جبکہ تمام کمپنیوں اور ملازمین کو یکم جون 2026 تک اصلاحی مدت (Correction Period) دی گئی ہے۔
اس دوران ورک پرمٹ کی تجدید یا اجراء ممکن ہوگا، چاہے ملازمین نے ابھی تک لائسنس کے لیے درخواست نہ دی ہو۔
وزارت کے مطابق یکم جون 2026 کے بعد ان پیشوں کے لیے ورک پرمٹ صرف اسی صورت میں جاری یا تجدید ہوسکے گا جب کارکن کے پاس سیکٹر اسکلز یونٹ برائے توانائی و کان کنی کا باضابطہ لائسنس موجود ہو۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملکی افرادی قوت کی مہارت بڑھانے، لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
لائسنس درکار پیشوں میں شامل ہیں: HSE ایڈوائزر، موبائل کرین آپریٹر، فورک لفٹ آپریٹر، ایکسکیویٹر آپریٹر، ویلڈر، مکینکل و الیکٹرکل ٹیکنیشنز، ڈرلر، دریک مین، ٹول پشر، مشین آپریٹر، CNC آپریٹر، فٹنگ اینڈ اسمبلی ٹیکنیشن، اسٹرکچرل اسٹیل ورکر اور دیگر درجنوں تکنیکی اسامیاں۔
وزارت نے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ لائسنسنگ کی مقررہ تاریخوں پر عمل کریں تاکہ کاروباری سرگرمیاں بغیر رکاوٹ جاری رہ سکیں۔ مزید معلومات کے لیے وزارت کا ہیلپ سینٹر 80077000 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔