پاکستان ریلوے سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کے 3 سے 12 گھنٹے اسیٹنشن پر اپنی گاڑی کا انتظار کرتے ہوئے گزر جاتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ریلویز کی ریل گاڑی ہو یا آؤٹ سورس ہونے والی ٹرین، اس کے مسافروں کی تعداد میں ائے روز اضافہ تو ہو رہا ہے اور ان کو زیادہ سے زیادہ سفری سہولیات پہنچانے کے لیے ریلوے انتظامیہ ریلوے اسٹیشن اور گاڑیوں کی اپ گریڈیشن  پر تو زور دے رہی ہے۔

ان ٹرینوں کے شیڈول میں تاخیر اور بروقت روانگی کیلیے انتظامیہ نے اقدامات کیے تاہم سب رائیگاں گئے ہیں، ان کے تمام تر اقدامات کے باوجود تاخیر در تاخیر ہو رہی ہے۔

ریلوے ٹریک کی خستہ حالی کے باعث ٹرینوں کے تمام ڈرائیورز کو  روانگی سے قبل ریلوے انجینیئرز کی طرف سے اسپیڈ کم سے  کرنے کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں اور ٹرینیں اپنی اصل رفتار 100 سے 110  کے بجائے 50 سے 55 اور کہیں 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان سفر کرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مسافروں کے ریلوے اسٹیشن بروقت پہنچنے کے باوجود ریلوے اسٹیشن پر گاڑیوں کے  انتظار میں  کئی کئی گھنٹے بلا وجہ بیٹھنا پڑتا ہے۔

پاکستان ریلوے کے پاس کراچی سے پشاور تک 1872 کلومیٹر سے زائد کا ریلوے ٹریک ہے، جس میں سے  ساڑھے 800 سے زائد ریلوے ٹریک  صرف کراچی، سکھر اور حیدرآباد ڈویژن میں ہے، ٹریک کی خستہ حالی کی وجہ سے یہاں پر گاڑیوں کی اوسط رفتار بھی 55 سے 60 کے درمیان رہتی ہے۔

مجموعی طور پر کراچی سکھر حیدراباد یعنی کہ سندھ میں سفر کرنے والے مسافروں کو 10  گھنٹے سے لے کر 12 اور بعض اوقات 13 سے 14 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ لاہور، ملتان، پشاور اور راولپنڈی کے مسافروں کو تین سے پانچ گھنٹے اور بعض اوقات پانچ سے چھ گھنٹے بھی انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے۔

انجینئر کی طرف سے عائد حد رفتار کی پابندی کی  وجہ سے  ڈرائیور مقررہ اسپیڈ سے زیادہ  تیز  گاڑی نہیں چلا سکتے، یہی وجہ ہے کہ گاڑیوں کی آمد و رفت میں تاخیر  ہوتی ہے۔

مسافر ٹرینوں کی تاخیر کے باعث مال بردار ٹرینوں کو بھی سامان لے جانے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ مال بردار ریل گاڑیاں  بھی کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر سے منزل مقصود پر پہنچ رہی ہیں۔

عامر طفیل، رضا گیلانی، شہباز پراچہ اور آفاق احمد مسافر ہیں جنہوں نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیملیز کے ہمراہ سفر کرنا ہوتا ہے اور ٹرین سے بہتر سفر کسی اور ٹرانسپورٹ میں ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کاہ کہ ہوائی جہاز کا ٹکٹ مہنگا ہے ٹرین کا سفر سستے کے ساتھ آرام دہ بھی ہے مگر جو ریلوے اسٹیشن آکر گاڑی کا انتظار کرنا پڑتا ہے وہ کسی اذیت سے کم نہیں۔

مسافروں نے کہا کہ ریلوے انتظامیہ نے ویٹنگ ایریا اچھے بنا دیے، ٹرینیں بھی اچھی اور سہولیات بہتر ہوگئی ہیں مگر کچھ رقم ٹریک پر بھی لگا دیں تو بروقت پہنچنے میں آسانی ہوگی کیونکہ سفر کی سب سے بڑی اذیت تاخیر ہے۔

ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سسٹم کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ ٹرینوں کی آمد و رفت کو بروقت بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، مقامی اور  عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے کراچی ڈویژن میں جلد سے جلد ٹریک کی بحالی کا کام شروع ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریلوے اسٹیشن پڑتا ہے ٹریک کی

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی