فلائٹ منسوخ، ایئرپورٹ پر مسافروں نے موسیقی سے کشیدہ ماحول کو خوشگوار بنایا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ممبئی ایئرپورٹ پر پروازوں کی مسلسل منسوخی اور تاخیر کے باعث مسافر کافی پریشان تھے، لیکن ایک مسافر نے صورتحال کو خوشگوار لمحے میں بدل دیا۔ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کے مشہور گانے ’’وہ لمحے’’ کی دھن پر گٹار بجاتے ہوئے زین رضا نے ایئرپورٹ کے انتظار گاہ میں موسیقی کی محفل سجائی۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آس پاس بیٹھے مسافر موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور کچھ اسے اپنے فون پر ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ زین رضا نے مزاحیہ انداز میں کیپشن لکھا کہ فلائٹ کی تاخیر کے باعث انہوں نے ’’لائیو کنسرٹ‘‘ شروع کر دیا، اور ممبئی سے پٹنہ کا سفر ’’ممبئی سے پتا نہیں کب جائیں گے‘‘ میں بدل گیا۔
یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں وائرل ہو گئی اور لاکھوں لوگوں نے اسے دیکھا، ساتھ ہی ہزاروں لائکس اور تبصرے موصول ہوئے۔ صارفین نے اسے ’’اداس ماحول میں خوشگوار تبدیلی‘‘ قرار دیا۔
واضح رہے کہ بھارتی نجی ایئر لائن انڈیگو کی فلائٹس کی مسلسل منسوخی اور تاخیر کی وجہ سے ملک بھر کے مسافر شدید پریشان ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔