پتنگ بازی آرڈیننس 2025 کالعدم قرار دینے کی درخواست میں ڈی جی والڈ سٹی کو فریق بنانےکےلئے مہلت
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
لاہور ہائی کورٹ میں پتنگ بازی آرڈیننس 2025 کالعدم قرار دینے کےلئے درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے ڈی جی والڈ سٹی کو فریق بنانے کے لئے درخواست گزار کو مہلت دے دی۔
عدالت نے کہا کہ بسنت منانے کی سفارشات توڈی جی والڈ سٹی کی تھیں، بنیادی طور پر ڈی جی والڈ سٹی کو فریق بنایا جانا ضروری ہے۔
وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اپنایا کہ یہ اہم اورانسانی جانوں کےتحفظ کا معاملہ ہے اسے جلد سماعت ہونا چاہئیے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اپنی انرجی بچا کر رکھیں اور فریق بنا کر دلائل دیں، سرکاری وکیل کے تاخیر سے پیش ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔
عدالت نے کیس کی سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کردی، جسٹس محمد اویس خالدنے سماعت کی۔
خواست گزار جوڈیشل ایکٹوازم پینل کےسربراہ اظہر صدیق نے دلائل دئیے اور مؤقف اپنایا کہ حکومت آرڈیننس کےذریعےعوامی جان و مال کو خطرے میں ڈال رہی ہے، ماضی میں دھاتی ڈور اور کیمیکل ڈور سے ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
2001 اور 2024 کے قوانین کے باوجود ہلاکتیں نہ رک سکیں، نیا ریگولیٹری آرڈیننس عوامی مفاد کے خلاف ہے، پتنگ بازی آرڈیننس مزید جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، ہلاکتوں کے اعدادوشمار، ایف آئی آرز اور نفاذ سے متعلق تفصیلات سامنے لائی جائیں۔
موقف اپنایا کہ پتنگ بازی کی بحالی سے ہونے والا ہر جانی نقصان حکومت پر عائد ہونا چاہئیے، عدالت ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کے احکامات صادر کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی والڈ سٹی پتنگ بازی عدالت نے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان