جج آصف کا بیٹا بھی جج بنے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
نہ سیف سٹی اسلام آباد نے سی سی ٹی وی فوٹیج برآمد کی، نہ کسی چشم دید گواہ نے گواہی دی، نہ کچلی ہوئی بچیوں کے دفتر نے احتجاج کیا، نہ ٹریفک پولیس نے کوئی کارروائی کی، نہ آج تک پتہ چلا کہ گاڑی میں کون کون تھا، نہ وی ایٹ جیسی بڑی گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصدیق ہوئی، نہ وکلاء نے احتجاج کیا، نہ معزز ججوں نے ایک دوسرے کو خط لکھا، نہ سول سوسائٹی نے موم بتیاں جلائیں، نہ وزیر اعظم نے دکھی خاندان کی داد رسی کی۔ اور صرف 5 دن میں انصاف ہو گیا۔ کچلی جانے والی بچیوں کے خاندان کی زبان پر قفل لگا دیے گئے اور انصاف کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ کیس عدالت سے اسی تیز رفتاری سے ختم ہوا جس تیز رفتاری سے سکوٹی پر بیٹھی بچیوں کو کچلا گیا تھا۔
انصاف کے حصول کے لیے اس برق رفتاری کا مظاہرہ اس عدلیہ کی جانب سے کیا گیا جس کے کیس نسلوں تک فیصلوں کے منتظر رہتے ہیں۔ یہ تیز رفتار انصاف اس عدلیہ کی جانب سے کیا گیا جس کا دنیا میں انصاف کی فراہمی میں 140واں نمبر ہے۔ یہ کارنامہ اس عدلیہ کی جانب سے کیا گیا جہاں کسی کسی کیس میں دہائیوں تک گواہوں کی پیشی نہیں لگتی، جہاں سائل انصاف کی تلاش میں عمریں گزار دیتے ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔ اس عدلیہ کی جانب سے ایسا کیس 5 دن میں نپٹانا ایسا کارنامہ ہے جو شاید اس وقت تک نہ دہرایا جائے جب تک کسی اور جج کا بچہ کسی اور بڑی گاڑی میں کسی اور بچی کو قتل نہیں کرتا۔
سارا زمانہ ششدر ہے کہ یہ کیسا کیس تھا جو بس 5 دن میں تمام ہو گیا۔ حیرت ان وکیلوں پر ہے جو ہر وقت احتجاج کو تیار رہتے ہیں، جن کی مرضی سے عدالتیں چلتی ہیں، جو سب سے زیادہ انصاف کا نعرہ لگاتے ہیں، جو اپنے پریشر سے حکومتوں کو زیرِ دام کرتے ہیں، جن کی بارز کی طاقت سے بڑے بڑے جج گھبراتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ سارے وکیل لیڈر، وکیل تنظیمیں کیوں خاموش ہو گئیں؟ ان کا جذبۂ جہاد کہاں چلا گیا؟ ان کی انصاف کی طلب کہاں مر گئی؟
وہ بڑے بڑے جج جو سرعام ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں، جن کی طاقت اور دہشت سے ٹی وی پر ٹکر چلتے ہیں، جن کے فیصلوں سے حکومتیں الٹتی ہیں، جن کے خوف سے حکومتیں تھر تھر کانپتی ہیں، وہ سبھی اپنے مجرم ساتھی کو بچانے کی خاطر چپ ہو گئے۔ نہ کسی نے سوموٹو لیا، نہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا، نہ فل کورٹ کو طلب کرنے کی درخواست آئی، نہ کوئی خط میڈیا میں لیک ہوا، نہ انصاف کے ترازو میں کوئی جنبش ہوئی۔ سب اپنے ساتھی کے جرم پر پردہ ڈالنے کو خاموش ہو گئے۔
ایک لمحے کو سوچیں: جج آصف اب بھی انصاف کی مسند پر براجمان ہوں گے۔ سائل امید سے انصاف کی توقع لے کر ان کی عدالت میں آئیں گے۔ میزانِ عدل بھی وہیں پڑا ہوگا۔ قانون کی کتاب بھی وہیں کہیں رکھی ہو گی۔ قرآنِ کریم کا نسخہ بھی گواہی کے لیے موجود ہوگا۔ چوبدار بلند آواز میں سائلین کو پکارے گا۔ پولیس معزز جج کے حکم پر لوگوں کو گرفتار یا رہا کرے گی لیکن انصاف کی مسند پر وہ شخص بیٹھا ہوگا جس نے اپنے ادارے کے نام کو بٹہ لگایا، انصاف کا تماشا بنایا۔ نہ ادارے کو حیا آئی نہ کسی اور جج کی غیرت جاگی۔
جج آصف کو چاہیے کہ اپنی عدالت میں رکھی قانون کی کتاب کو آگ لگا دیں، انصاف کے میزان کے دونوں پلڑے زمین پر گرا دیں، قرآنِ کریم کے نسخے کو طاق پر رکھوا دیں، سائلین میں منادی کرا دیں کہ یہ اس منصف کی عدالت ہے جو خود مجرم ہے، جس کا بیٹا قاتل ہے اور اس قاتل کی پشت پناہی کرنے والا آج آپ کا مقدمہ سنے گا۔ سائلین خود بتائیں کہ انہیں کون سا انصاف درکار ہے: جج آصف کے بیٹے ابوذر ریکی والا یا سکوٹی پر بیٹھی 2 غریب بچیوں والا؟
کہا جاتا ہے کہ جس بڑی گاڑی نے سکوٹی والی بچیوں کو کچلا اس کی نمبر پلیٹ بھی جعلی تھی۔
سرکارِ پاکستان اس وقت دہشتگردی کے خلاف جہاد سے نبرد آزما ہے۔ غیر قانونی مقیم افغانیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالا جا رہا ہے۔ ہر شخص کے لائسنس اور گاڑی کے نمبر کی تصدیق ہو رہی ہے۔ کوئٹہ سے کراچی تک دہشتگردی اور دہشتگروں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے۔ ان حالات میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جج وی ایٹ جیسی بڑی گاڑی جعلی نمبر پلیٹ پر چلا رہا ہے، تو اس پر تشویش کسی ایک ادارے کو نہیں، پورے ملک کو ہونی چاہیے۔
ایک زمانہ تھا جب ہم مجرم اس کو کہتے تھے جس نے جرم کیا ہوتا تھا، مگر جج آصف نے اس عدلیہ کے منہ پر وہ کالک ملی ہے کہ اب مجرم اور منصف میں تخصیص ختم ہو گئی ہے۔ اب دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہو گئے ہیں۔ اب دونوں ایک ہی گھر میں پرورش پاتے ہیں۔ ایک اپنے بچے کو 9 سال کی عمر سے گاڑی چلانے کی ترغیب دیتا ہے اور اسی تربیت کا فائدہ اٹھا کر وہ بچہ 16 سال کی عمر میں وی ایٹ تلے 2 بچیوں کو قتل کر دیتا ہے۔ اسی گھر میں ایک منصف ہے جو اس سارے جرم پر پردہ ڈالتا ہے۔ پورا ادارہ اس کی پشت پناہی کرتا ہے۔ کہیں سے کوئی احتجاج کی آواز نہیں آتی۔ انصاف کا سارا ادارہ ایک مجرم جج کے حق میں خاموش رہتا ہے۔
جج آصف نے اپنے عہدے اور دولت سے اپنے قاتل بیٹے کے لیے جو انصاف خریدا ہے، اس سے یوں گمان ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا بھی بڑا ہو کر جج ہی بنے گا کیونکہ طاقت کے بل پر سستے داموں انصاف کو خریدنے کا نسخہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو چکا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اس عدلیہ کی جانب سے انصاف کی بڑی گاڑی کسی اور کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک