ایریزونا جہاز کو دوبارہ “آنسو” نہ بہانے دیں، چینی میڈیا سروے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
ایریزونا جہاز کو دوبارہ “آنسو” نہ بہانے دیں، چینی میڈیا سروے WhatsAppFacebookTwitter 0 8 December, 2025 سب نیوز
بیجنگ :سات دسمبر 1941 کو جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 1100 سے زیادہ امریکی بحری اہلکار اور میرین یو ایس ایس ایریزونا شپ کے ساتھ ڈوب گئے۔ 84 سال گزرنے کے بعد بھی اس جہاز سےتیل رِس رہا ہے، سمندر کی سطح پر سیاہ تیل کے قطرے “سیاہ آنسوؤں” کا نام سے جانے جاتے ہیں۔ اب جب وہ دوبارہ اُبھرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو کیا بین الاقوامی برادری یو ایس ایس ایریزونا کے “آنسوؤں” کو دوبارہ گرنے سے روک سکتی ہے؟
سی جی ٹی این کی جانب سے بین الاقومی انٹرنیٹ صارفین سے کیے گئے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 89.
“اسے قاہرہ اعلامیہ اور پوٹسڈیم اعلان جیسے بین الاقوامی معاہدوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے، شکست خوردہ ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، فوجی تسلط کی روح کو پھر سے زندہ کرنے کی کوششیں فوری طور پر بند کرنی چاہئیں اور چین اور بین الاقوامی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی قانون ساز کونسل کے آٹھویں انتخابات کے نتائج جاری اگلی خبربھارتی رویے کے باعث 11 سال سے سارک کا عمل جمود کا شکار ہے، صدر مملکت وزیراعظم نے گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری دیدی بھارت نے اطلاع دیئے بغیر چناب میں پانی کا ریلا چھوڑ دیا ’ہر طرح کا تعاون کیا پھر بھی مارا گیا‘، جیل سے رہائی کے بعد ڈکی بھائی نے خاموشی توڑ دی انجینئر محمد علی مرزا کی درخواست پر ایف آئی اے، پنجاب قرآن بورڈ سے جواب طلب آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس آج، پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونےکا امکان بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے 12 دہشت گرد بھاری اسلحہ و بارود سمیت گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔