آج اور کل: اسلام آباد آنے کے لیے کون سے راستے ہرگز استعمال نہیں کرنے چاہئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام آباد کی مختلف سڑکیں آج معمول کی ٹریفک کے لیے بند رہیں گی جس کی وجہ سے بعض دوسری شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ معمول سے زیادہ ہوگا۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق آج 11 بجے سے 12 بجے دوپہر تک شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ معمول سے زیادہ رہے گا۔ ٹریفک ایڈوائزری میں شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور متبادل راستوں کا استعمال یقینی بنائیں۔
متاثرہ شاہراہیںجن راستوں پر ٹریفک کا دباؤ معمول سے زیادہ رہے گا ان میں فیصل ایونیو، ایکسپریس ہائی وے اور سری نگر ہائی وے شامل ہیں۔ ٹریفک ایڈوائزی میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ممکن ہو تو وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ریڈ زون میں انٹری اور راستے بندایکسپریس چوک اور میریٹ گیٹ ریڈ زون کے لیے بند رہیں گے۔ جبکہ ریڈ زون میں داخلے کے لیے سرینا روڈ، نادرا چوک اور مارگلہ روڈ استعمال کی جاسکتی ہے۔
اسلام آباد آنے اور جانے والوں کے لیے متبادل راستےراولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے شہری راول روڈ، نائنتھ ایونیو، فقیر ایپی روڈ اور سری نگر ہائی وے استعمال کریں۔
اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والے شہری زیرو پوائنٹ سے سری نگر ہائی وے اور پھر نائنتھ ایونیو کا استعمال کریں۔
مری، بارہ کہو سے اسلام آباد آنے والے شہری کورنگ روڈ، بنی گالہ روڈ، پارک روڈ اور لہتراڑ روڈ استعمال کریں۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے اہلکار مختلف مقامات پر رہنمائی کے لیے موجود ہوں گے۔ مزید معلومات کے لیے ،ITP ریڈیو 92.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی وے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔