متعدد مظاہرین زیرحراست ، ہنگامہ آرائی،ہوائی فائرنگ اور شیلنگ، مظاہرین کا پتھراؤ،بس کے شیشے توڑ دئیے ایمبولینس پر پتھرائو، ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر
پولیس نے ایف ٹی سی کے مقام پر رکاوٹیں لگا کر ریڈ زون جانے والا راستہ بند کردیا، پیپلز بس سروس کی بس پر پتھراؤ، اطراف کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام رہا

شارع فیصل ایف ٹی سی پر پولیس اور قوم پرست تنظیم کی ریلی کے شرکا کے درمیان تصادم ہوا، مظاہرین نے پولیس موبائل اور مسافر گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے، پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا، ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کے سبب ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق سندھ کلچرل ڈے کے حوالے سے قوم پرست جماعت کی جانب سے شارع فیصل سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی تاہم پولیس نے ایف ٹی سی کے مقام پر رکاوٹیں لگا کر ریڈ زون جانے والا راستہ بند کردیا اور ریلی کو متبادل راستے (لائنز ایریا) سے پریس کلب جانے کی ہدایت دی جس پر قوم پرست جماعت کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔پولیس کے مطابق ریلی کے شرکا شارع فیصل سے کراچی پریس کلب کی جانب بڑھ رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر متبادل راستے سے جانے کی ہدایت کی تاہم شرکا نے انکار کردیا جس پر دونوں جانب سے تکرار شروع ہوگئی۔ صورتحال سنگین ہونے پر مشتعل مظاہرین نے موقع پر موجود گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، جس سے متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔جائے وقوع سے منظر عام پر آنے والی ایک موبائل ویڈیو میں مشتعل افراد کو پیپلز بس سروس کی بس پر پتھراؤ اور مسافروں کو ہراساں کرتے بھی دیکھا گیا۔ ویڈیو میں بس میں موجود خواتین اور بچوں کو خوفزدہ حالت میں دیکھا گیا۔ کشیدہ صورتحال کے باعث پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، جبکہ ریلی کے شرکا کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ مظاہرین نے پولیس موبائل کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث ایف ٹی سی کے مقام سے شارع فیصل کو بند کردیا گیا ہے اور شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کی طرف کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے باعث شارع فیصل پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور اطراف کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام رہا۔ پولیس کے سخت ایکشن کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے جس کے بعد روڈ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور ان کو زخمی کرنے سمیت سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے،قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاء گی

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: شارع فیصل پر پتھراو ایف ٹی سی پولیس نے کے مطابق کی جانب

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟