عمر ایوب‘ زرتاج گل کو اشتہاری قرار‘جائیداد ضبطی سے متعلق سماعت 20 دسمبر کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں عمر ایوب اور زرتاج گل کو اشتہاری قرار دینے اور جائیدادیں بھی
ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد کی صورتحال پرسماعت 20 دسمبر کو ہوگی۔ اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا سماعت کریں گے وہ پہلے ہی پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف سنگجانی جلسہ کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب اور زرتاج گل کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم جاری کر چکے ہیں۔ عدالت نے زین قریشی، علی بخاری، شیر افضل مروت اور شعیب شاہین کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کر لیں، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔